خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 476

$1956 476 خطبات محمود جلد نمبر 37 بٹھانا چاہتا تو کہتا نہیں نہیں۔میری عزت اسی میں ہے کہ میں یہیں بیٹھوں۔سارا لندن اُس کی تصویریں لیتا تھا، بڑے بڑے وزراء اُس سے ملتے تھے لیکن اُس کی محبت کی حالت یہ تھی کہ وہ ای رے پاؤں کے قریب بیٹھنا اپنی عزت تصور کرتا تھا۔حالانکہ ہم نے تو بہت تھوڑا روپیہ خرچ کیا ہے انگلستان نے ہم سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ اُن کے ملک پر خرچ کیا ہے۔مگر انگریزوں کے متعلق اُن کے دلوں میں نفرت ہے اور ہماری محبت ہے۔میں نے عیسائیت کے رڈ میں ایک رسالہ لکھا۔اس میں کچھ الفاظ سخت تھے کیونکہ جس کتاب کے جواب میں وہ رسالہ تھا اُس میں بڑے بڑے سخت الفاظ اسلام کے متعلق استعمال ہوئے تھے۔مجھے بھی جوش آ گیا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب کہنے لگے لفظ بدل ڈالیے افریقہ میں انگریز اس رسالہ کو ضبط کر لیں گے۔وہ رئیس باہر سے کسی وزیر کو مل کر آیا۔میں گھر سے باہر کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اس کے لیے کرسی رکھوائی لیکن وہ میرے پیروں میں آ بیٹھ گیا۔پھر میں نے اُسے کہا بتائیے میں نے ایک رسالہ لکھا ہے اور چودھری صاحب ہیں کہ گورنمنٹ اسے ضبط کر لے گی۔آپ کی کیا رائے ہے؟ اُس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور کہنے لگا گورنمنٹ ضبط کرے گی تو میں گورنر کی گردن پکڑ کر اُسے مروڑ نہ دوں گا۔ہم مسلمان وہاں زیادہ تعداد میں ہیں۔اس لیے کوئی پروا نہ کیجیے۔کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس کتاب کو ضبط کرے۔یہ غیرت اُسے اس لیے آئی کہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ ہماری خاطر قربانی کر رہے ہیں اور گورنر کی قوم جو روپیہ خرچ کرتی ہے اُس کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ انہیں کوٹنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔اس لیے اُس کے دل میں اس قوم کی محبت نہیں تھی بلکہ ان کے لیے شدید نفرت تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ ایسا گر مسلمانوں کو بتایا ہے کہ اگر وہ اس پر عمل کریں تو وہ غیروں میں اپنے لیے محبت پیدا کر سکتے ہیں۔1953 ء میں لاہور میں احمدیوں کو مارا جاتا تھا۔بعد میں مارشل لاء لگا اور اس میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔اگر چہ وہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے مارے گئے لیکن غیر احمدی سمجھتے تھے کہ اس کا موجب ہم ہیں۔بعد میں سیلاب آ گیا اور آپ لوگوں نے وہاں سیلاب زدوں کی خدمت کی۔اس کے کچھ عرصہ بعد میں لاہور گیا