خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 36

$1956 36 خطبات محمود جلد نمبر 37 پایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد ہی آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔حضرت عثمان کی خلافت کا عرصہ بارہ سال ہے لیکن ان کی خلافت کے ابتدائی دو سال گزر جانے کے بعد ہی مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔حضرت عثمان نے ایک دفعہ فرمایا کہ میرا اور تو کوئی قصور نہیں صرف اتنی بات ہے کہ میری عمر زیادہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ی خلافت کا عرصہ زیادہ لمبا ہو گیا ہے اور لوگوں پر گراں گزرتا ہے حالانکہ آپ کی ساری خلافت صرف بارہ سال کی تھی۔غرض ہمیں سوچنا چاہیے کہ جو بات دنیا کی دوسری اقوام میں پائی جاتی ہے وہ مسلمانوں میں کیوں نہیں پائی جاتی۔پھر یہ بات آدمیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ علوم کے بارہ میں بھی ہم میں یہی نقص جاتا ہے۔ابن سینا اور ابن رشد نے جس حد تک ترقی کی تھی ہم نے اُس پر دھرنا مار لیا ہے۔مگر یورپ نے انہی کے علوم کو ترقی دے کر دنیا میں علمی طور پر بلند مقام پیدا کر لیا ہے۔یورپ کے مصنفین مسلمانوں کے علوم کی ہی نقل کرتے ہیں اور خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کے علوم کو ترقی دے کر اس مقام کو حاصل کیا ہے۔لیکن ہم نے بجائے قی کرنے کے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو شخص ارسطو اور سقراط کے خلاف کوئی بات کہتا ہے وہ کافری ہے۔گویا ایک طرف تو ہم اپنے پرانے بزرگوں کے اس قدر قائل ہیں کہ اُن کے خلاف رائے دینے والے کو گردن زدنی قرار دیتے ہیں۔اور دوسری طرف اپنے موجودہ بزرگوں کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس تم اس کے متعلق غور کرو اور مجھ سے بھی مشورہ کرو۔طلباء کو مجھ سے ملاقات کرنے کا اُسی طرح حق ہے جس طرح بڑوں کو ہے۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھی طلباء آتے تھے اور آپ سے مختلف مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسی الاول کا بھی یہی طریق تھا۔ہم طالبعلم آپ کے پاس چلے جاتے اور مختلف علمی سوالات دریافت کرتے اور آپ اُن کے جوابات دیا کرتے تھے۔صرف آپ اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔حافظ روشن علی صاحب کو تنقید کرنے اور سوالات کرنے کی بڑی عادت تھی۔اُنہیں دیکھ کر ایک دن میں نے بھی بعض سوالات کر دیئے تو آپ نے فرمایا میاں! حافظ روشن علی کو دیکھ کر تمہیں بھی سوالات کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ہے۔