خطبات محمود (جلد 37) — Page 35
$1956 35 خطبات محمود جلد نمبر 37 لیکن اس کے ساتھ ہی ہم میں یہ وصف بھی ہے کہ ہم اسے اطمینان سے بیٹھنے نہیں دیتے بلکہ اسے اتنا گھسیٹتے ہیں کہ وہ مجبور ہو کر کرسی چھوڑ دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔یہی مسلمانوں کی عادت ہے کہ وہ نہ خود حکومت کی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور نہ کسی اور کو بیٹھنے دیتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے اور باوجود اس کے کہ اعلیٰ تعلیم ہمیں ملی ہے دنیا میں ہمارا کوئی اثر نہیں۔حالانکہ اس تعلیم فائدہ اُٹھا کر یورپین اقوام نے بڑی لمبی حکومت کی ہے۔تم دیکھو ابنِ رُشد پین میں پیدا ہوا تھا۔سپین میں اس کی کتابیں صرف ہیں چھپیں سال تک پڑھائی گئیں لیکن فرانس میں اس کی کتابیں چار سو سال تک پڑھائی گئیں۔گویا اُس کی اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب لوگوں نے تو اُس کی کتابوں کو بیس پچیس سال کے بعد چھوڑ دیا لیکن یورپین اقوام اب بھی اُس کا نام بڑے ادب اور احترام سے لیتی ہیں اور تسلیم کرتی ہیں کہ ہمارے کالجوں میں ابن رشد کی کتابیں چار سو سال تک پڑھائی جاتی رہی ہیں۔آخر ہمیں سوچ کہ کیا نقص ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ قابل وگوں کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں؟ اور پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں قابل لوگوں کا سلسلہ بہت کم ہے حالانکہ اس سلسلہ کو بہت وسیع ہونا چاہیے تھا؟ ایک مسلمان ایک دن میں کئی بار دعا کرتا ہے کہ اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر چار ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے یعنی حضرت مسیح علیہ السلام سے اس زمانہ تک اُنیس سو سال اور حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت موسی علیہ السلام تک اٹھارہ سو سال اور حضرت موسی علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک دوسو سال، گل انتالیس سو سال ہو گئے اور کم از کم اندازہ ہے۔عیسائیوں کے اندازے تو اس سے زیادہ ہیں۔اُن کے اندازہ کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام پر چار ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔بہر حال ہم دعا تو یہ کرتے ہیں کہ اے اللہ ! تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر وہی برکات نازل فرما جو تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی آل پر نازل کی تھیں اور عملاً