خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 37

$1956 37 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس کے بعد آپ نے فرمایا میں علم کے بارہ میں بخیل نہیں ہوں۔مجھے جو کچھ آتا ہے وہ میں بتا دیتا ہوں۔لیکن جو مجھے نہیں آتا وہ میں کیسے بتاؤں؟ اگر یہ باتیں مجھے معلوم ہوتیں تو کیا یہ ہوتی سکتا تھا کہ تمہیں نہ بتا تا؟ پس تم حافظ روشن علی کی نقل نہ کرو بلکہ خود بھی سوچو اور غور کرو۔آخر قرآن کریم میرا ہی نہیں تمہارا بھی ہے۔اگر مجھے کوئی بات نہیں آتی تو تمہارا بھی فرض ہے کہ تم خود قرآن کریم کی آیات پر غور کرو اور ان پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں اُن کا جواب دو۔میں بھی طلباء سے یہی کہتا ہوں کہ وہ خود غور کرنے کی عادت ڈالیں اور جو باتیں میں نے بیان کی ہیں اُن کے متعلق سوچیں اور پھر دوسرے لوگوں میں بھی انہیں پھیلانے کی کوشش کریں۔یاد رکھو! صرف کتابیں پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان میں جو کمی تمہیں نظر آتی ہے اُسے دور کرنا بھی تمہارا فرض ہے۔مثلاً تفسیر کبیر کو ہی لے لو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کریم کا بہت کچھ علم دیا ہے لیکن کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جن کا ذکر میری تفسیر میں نہیں آیا۔اس لیے اگر تمہیں تفسیر میں کوئی بات نظر نہ آئے تو تم خود اُس بارہ میں غور کرو اور سمجھ لو کہ شاید اس کا ذکر کرنا مجھے یاد نہ رہا ہو اور اس وجہ سے میں نے نہ لکھی ہو یا ممکن ہے وہ میرے ذہن میں ہی نہ آئی ہو اور اس وجہ سے وہ رہ گئی ہو۔بہر حال اگر تمہیں اس میں کوئی کمی دکھائی دے تو تمہارا فرض ہے کہ تم خود قرآن کریم کی آیت پر غور کرو اور ان اعتراضات کو دور کرو جو ان پر وارد ہوتے ہیں۔پھر تم اس بات کے متعلق بھی غور کرو کہ انگلینڈ اور امریکہ کو کیوں لائق آدمی مل جاتے ہیں اور ہمیں کیوں نہیں ملتے ؟ تم میں سے بعض سمجھتے ہوں گے کہ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہیں تنخواہیں زیادہ ملتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں گورنمنٹ کی تنخواہوں اور فرموں کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔لیکن پھر بھی گورنمنٹ کو اچھے کارکن مل جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے انگلستان کا ایک وزیر خزانہ تھا جسے دوسرے وزراء سے زیادہ تنخواہ ملتی تھی۔لیکن اس نے اپنے عہدہ سے اس لیے استعفی دے دیا کہ اُسے کوئی فرم تین گنا زیادہ تنخواہ پیش کر رہی تھی۔اُسے اُن دنوں دس ہزار پونڈ یعنی ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ تنخواہ ملتی تھی۔لیکن ایک فرم نے اُسے اس سے تین گنا یعنی ساڑھے چار لاکھ روپیہ پیش کر دیا۔تو وہاں کی گورنمنٹ کی تنخواہوں