خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 34

$1956 34 =4 خطبات محمود جلد نمبر 37 حضرت عثمان اُس شان کے خلیفہ نہیں تھے جس شان کے حضرت عمرؓ تھے لیکن بہر حال انہوں نے حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد کام سنبھالا اور اُن کی جگہ لے لی۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو حضرت علیؓ نے اُن کی جگہ لے لی۔اور جب حضرت علی شہید ہوئے تو بنوامیہ نے اُن کی کی جگہ لے لی۔بنوامیہ کے زوال کے بعد بنوعباس برسر اقتدار آ گئے اور انہوں نے اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔لیکن اس کے بعد یہ تسلسل قائم نہیں رہا۔اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں ہزار ہزار سال تک بعض خاندان برسر اقتدار رہے ہیں۔روس اور چین میں بھی اس قسم کا تسلسل نظر آتا ہے۔لیکن مسلمانوں میں یہ تسلسل نظر نہیں آتا۔مثلاً دیکھو عربوں کے بعد ایرانی غالب آئے اور ایرانیوں کے انحطاط کے بعد مغل آگے آئے۔جب مغل مٹ گئے تو پٹھانوں نے زمام حکومت سنبھالی اور پٹھانوں کے بعد دوسری قومیں آئیں لیکن ایک ہی قوم یا ایک ہی خاندان میں مسلسل حکومت نہیں چلی۔میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپین لوگوں کو اپنے نفسوں پر قابو ہے لیکن ہمیں وہ قابو حاصل نہیں۔ان میں سے جو لوگ قابل ہوتے ہیں وہ اُن کی قابلیت قبول کرتے ہیں اور اُن کے پیچھے چلتے ہیں۔اُن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ قابل لوگوں کو نیچے گرا دیں اور اُن کی جگہ خودسنبھال لیں۔لیکن مسلمانوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔وہ قابل لوگوں کی قدر نہیں کرتے اور نہ ان کے پیچھے چلتے ہیں بلکہ انہیں گرا کر خود ان کی جگہ سنبھال لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم قابلیت اور نا قابلیت کو نہیں جانتے ہمیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ کسی طرح جگہ خود سنبھال لیں اور اس مقصد کی خاطر اگر دوسرا شخص قابل بھی ہو تب بھی اُسے گھسیٹنا چاہیے اور اُس کی جگہ خود لینی چاہے۔مجھے ایک دفعہ شیخ بشیر احمد صاحب نے بتایا کہ بنگال کے ایک بہت بڑے لیڈر لاہور آئے تو میں نے اُن سے کہا کہ جناب آجکل بنگال میں کیا ہو رہا ہے۔اگر یہی فتنہ جاری رہا تو پاکستان کا امن مخدوش ہو جائے گا۔اُس بنگالی لیڈر نے کہا شیخ صاحب! یہ تو درست ہے کہ بنگالی لڑائی نہیں کر سکتے لیکن ہم میں ایک اور خصوصیت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ چاہے کوئی آجائے ہم اُس کے لیے اپنی کرسی چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں آ جاؤ اور اس جگہ کو سنبھال لو۔