خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 414

$1956 414 خطبات محمود جلد نمبر 37 جو اعمال بجا لاتا ہے خواہ اچھے ہوں یا بُرے وہ اُس کے ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ پر نقش ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کے کان اور اس کی آنکھیں اور اس کی زبان اور اس کا چمڑا گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔2 گویا وہاں اعمال کا ریکارڈ کاغذوں کی بجائے کانوں اور آنکھوں اور زبانوں پر کیا جاتا ہے اور ہاتھوں اور پاؤں کو گواہ بنایا جاتا ہے اور ان ساری مسئلوں کا اسے جواب دینا پڑے گا۔پس اس کی حالت عام دنیوی ملازموں سے بہت زیادہ نازک ہے اور اس کو ہمیشہ اس بات کا فکر رہنا چاہیے کہ جب میں اپنے اعمال کا جواب دینے لگوں تو میرا حساب بالکل صاف ہو۔چونکہ دنیا میں انسان خواہ کتنی بھی کوشش کرے اُس سے کچھ نہ کچھ غلطیاں ضرور ہو جاتی ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہیں ایک ترکیب بتاتے ہیں جس سے کام لے کر تم اس مشکل سے نجات حاصل کر سکتے ہو۔اور وہ ترکیب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہے کہ وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَبِ امَنُوْاوَ اتَّقَوْا لَكَفَرْنَا عَنْهُمْ سَيَّاتِھم کہ اگر وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ کا تقوی ختیار کرتے تو ہم اُن کی بُرائیاں اُن سے دور کر دیتے۔مسلمان عمل سے بچنے کے لیے بڑی بے تکلفی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اہلِ کتاب سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں حالانکہ سوال ہے کہ کیا مسلمانوں کو قرآن نہیں ملا؟ اگر مسلمانوں کو بھی ایک کتاب ملی ہے تو وہ بھی اہل کتاب ہیں۔مگر مسلمانوں کی عادت ہے کہ جہاں بھی اہلِ کتاب کا ذکر آ جائے وہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اس سے مراد ہم نہیں بلکہ یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔اسی ذہنیت سے تنگ آکر مولانا روم نے یہ کہہ دیا تھا کہ گفته آید در حدیث دیگراں یعنی بات کا اثر کسی پر تب ہوتا ہے جب دوسرے کا نام لے کر کہی جائے۔چنانچہ انہوں نے اسی حکمت کے ماتحت جانوروں کی طرف منسوب کر کے مثنوی میں کئی قسم کی حکایات لکھی ہیں۔کہیں لکھتے ہیں ریچھ نے یہ کہا، کہیں لکھتے ہیں بھیڑیے نے یہ کہا، کہیں لکھتے ہیں گیدڑ نے یہ کہا، کہیں لکھتے ہیں سانپ نے یہ کہا، کہیں لکھتے ہیں بچھونے یہ کہا حالانکہ در حقیقت