خطبات محمود (جلد 37) — Page 415
415 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 ان کی مراد وہ انسان ہوتے ہیں جو بچھو خصلت ہوتے ہیں یا وہ انسان ہوتے ہیں جو ب خصلت ہوتے ہیں یا وہ انسان ہوتے ہیں جو گیدڑ خصلت یا ریچھ خصلت یا بھیڑیا خصلت ہیں۔یہ طریق انہیں اس لیے اختیار کرنا پڑا کہ انہوں نے لوگوں کے حالات کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ گفته آید در حدیث دیگراں سانپ ان پر بات کا تب اثر ہوتا ہے جب دوسرے کا نام لے کر کہی جائے۔اگر خود انہیں مخاطب کیا جائے تو وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول اپنی وفات کے قریب جب بہت زیادہ کمزور ہو گئے تو ایسی حالت میں جب لوگ آپ کے پاس آتے اور آپ اُن کے دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے تنگ آ جاتے تو آپ فرمایا کرتے تھے اب میں تھک گیا ہوں دوست مہربانی کر کے چلے ان جائیں۔جب آپ یہ فرماتے تو اکثر لوگ یہ خیال کر لیتے کہ اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں ہم اس کے مخاطب نہیں۔چنانچہ اگر پچاس دوست اُس وقت بیٹھے ہوئے ہوتے تو اُن میں سے پانچ دس چلے جاتے اور چالیس پینتالیس پھر بھی بیٹھے رہتے۔آپ دس پندرہ منٹ اور انتظار کرتے اور جب دیکھتے کہ لوگ ابھی تک نہیں اُٹھے تو آپ فرماتے اب باقی دوست بھی چلے جائیں۔اس پر بہت سے لوگ اُٹھ کر چلے جاتے۔مگر کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جو پھر بھی ہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس حکم کے ہم مخاطب نہیں بلکہ دوسرے لوگ مخاطب ہیں۔آخر تھوڑی دیر اور انتظار کرنے کے بعد جب آپ کے لیے تکلیف بالکل نا قابل برداشت ہو جاتی تو آپ فرمایا کرتے اب نمبردار بھی چلے جائیں یا بعض دفعہ نمبردار کی بجائے آپ چودھری کا لفظ استعمال کرتے اور فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔یعنی وہ لوگ جو میرے بار بار کہنے کے باوجود اپنی جگہ سے نہیں ہلتے اور اپنے آپ کو چودھری یا نمبر دار سمجھتے ہیں وہ بھی چلے جائیں۔اس پر وہ شرمندہ ہو کر اُٹھ کھڑے ہوتے۔تو جب بھی لوگوں سے یہ کہا جائے کہ فلاں کام کرو تو اکثر لوگ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس سے مراد ہم نہیں بلکہ اور لوگ ہیں۔یہی حال مسلمانوں کا ہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان اہلِ کتاب ہیں مگر