خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 413

$1956 413 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ اگر اتفاقاً مجھ سے کوئی ایسی غلطی ہو جائے تو پھر اُس غلطی پر پردہ پڑ جائے۔اور یا ن جواب طلبی کرنے والا میرے قصور کو بھول جائے اور یا اُسے معاف کر دے۔یہ دو ہی ذرائع ہیں جن سے ایک ایسے انسان کو اطمینان حاصل ہوتا ہے جو ایسے مقام پر کھڑا ہو کہ اُس جواب طلبی کی جا سکے۔مثلاً ایک ملازم ہے اُس کو رات دن یہی فکر رہتی ہے کہ میرے کام میں کوئی ایسا نقص نہ ہو جائے کہ جس کی وجہ سے میرے افسروں کو مجھ سے جواب طلبی کرنی پڑے۔پھر اس کی دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ میرے افسر کو نظر نہ آ جائے۔اور اگر نظر آ جائے تو اُس کے دل میں ایسی محبت پیدا ہو جائے کہ وہ کہے، جانے دو اور اس غلطی کو نظر انداز کر دو۔اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے نوکر کی ذمہ داری بہت محدود ہوتی ہے اور پھر تھوڑے عرصہ کے لیے ہوتی ہے۔لیکن انسان کی ذمہ داری ایک لمبی زندگی کے لیے ہوتی ہے اور اتنی ہی امانتیں اُس کے سپرد ہوتی ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں ہوتا۔دفتر میں کسی کے پاس امانت کے دس روپے ہوتے ہیں، کسی کے پاس ہیں، کسی کے پاس پچاس روپے ہوتے ہیں اور کسی کے پاس سو اور کسی کے پاس ہزار روپے رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور کسی کے پاس دو ہزار۔پھر کسی کے پاس ایک فائل ہوتا ہے اور کسی کے پاس دو فائل، کسی کے پاس چار مسلیں ہوتی ہیں اور کسی کے پاس دس۔مگر انسان کو دیکھو تو کوئی کروڑ پتی ہوتا ہے اور کوئی ارب پتی۔مثلاً راک فیلر کو ہی دیکھ لو وہ ارب پتی ہے اور اُس نے خدا تعالیٰ کے حضور اربوں کا ہی جواب دینا ہے۔اب ایک اکا ؤنٹنٹ جو فوج میں یا کسی فرم میں ملازم ہوتا ہے اور جس نے پانچ سو یا ہزار کا حساب دینا ہوتا ہے جب اُس کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ جس نے کروڑوں روپیہ کا حساب دینا ہو گا اُس کا کیا حال ہو گا۔مثلاً راک فیلر ہی جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گا تو اس کو اربوں ڈالر کا حساب دینا پڑے گا۔اگر اس حساب میں اس کی کوئی کوتا ہی ثابت ہوئی تو یہ اُس کے لیے کتنی بڑی مصیبت ہوگی۔یہی کیفیت ہر انسان کو اگلے جہان میں پیش آنے والی ہے کیونکہ مسئلوں کا طریق عالم روحانی میں بھی موجود ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر انسان