خطبات محمود (جلد 37) — Page 312
$1956 312 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نہیں کہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ لَوْ كُنتُ مُتَّخِذًا خَلِيَّلا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ اَبَا بَكْرٍ خَلِيلا 2 یعنی اگر خدا کے سوا کسی اور کوخلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا۔لیکن حضرت خلیفہ اول کی نسبت تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اتنا فرمایا کہ چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے گویا اس میں آپ کا اور امت کا مقابلہ کیا گیا ہے خدا اور نورالدین کا مقابلہ نہیں کیا گیا۔مگر وہاں تو خدا اور ابوبکر کا مقابلہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی اور کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔پس وہ تعریف بہت بڑی ہے مگر پھر بھی ابوبکر کی بڑائی اور ابوبکر کا تقوی اُن کے لڑکے کو نہ بچا سکا۔اور ہر شخص جو تاریخ میں ان واقعات کو پڑھتا ہے اُن کے لڑکے پر لعنتیں ڈالتا ہے کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں میں شامل ہو گیا۔تاریخوں میں لکھا ہے جب باغی دیوار پھاند کر حضرت عثمان کے گھر میں داخل ہوئے تو محمد بن ابی بکر سب سے آگے بڑھا اور اس نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر اُسے زور سے جھٹکا دیا۔جب اُس نے آپ کی داڑھی پکڑی تو حضرت عثمان نے فرمایا اگر تیرا باپ اس جگہ ہوتا تو تو کبھی یہ جرأت نہ کر سکتا۔اُس کے دل میں ابھی کچھ ایمان باقی تھا۔جب اُس نے یہ بات سنی تو وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا 3 مگر جب وہ مر کر ابوبکر کے سامنے گیا ہو گا تو انہوں نے اپنی جوتی اُتار کر اُسے خوب ماری ہو گی کہ کمبخت ! جس کی میں عزت کرتا تھا اور جو محمد رسول اللہ کو اتنا پیارا تھا کہ جب آپ کی دوسری لڑکی بھی جو حضرت عثمان سے بیاہی ہوئی تھی فوت ہو گئی تو آپ نے فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی زندہ ہوتی تو میں وہ بھی عثمان سے بیاہ دیتا۔کیا تجھے شرم نہ آئی کہ تو نے اس ؟ حملہ کیا اور اس کی داڑھی کھینچی۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ سوچنا جانتے ہیں اور بعض نہیں جانتے۔آج ہی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کا خط آیا ہے۔انہیں چونکہ سوچنے کی عادت ہے اور وہ مضامین بھی لکھتے رہتے ہیں اس لیے وہ بات کی تہہ تک جلدی پہنچ جاتے ہیں۔۔انہوں نے لکھا ہے کہ کیا آپ۔