خطبات محمود (جلد 37) — Page 313
$1956 313 خطبات محمود جلد نمبر 37 غور نہیں کیا کہ حضرت عثمان" پر بھی ابوبکر کے لڑکے نے ہی حملہ کیا تھا۔آپ کی عمر بھی چونکہ لبی ہو گئی ہے اس لیے عمر کے لمبا ہونے کی وجہ سے آپ پر بھی عثمانی زمانہ آ گیا ہے۔حضرت ابوبکر خلیفہ اول سے یقیناً بڑے تھے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ تھے اور حضرت خلیفہ اول مسیح موعود کے خلیفہ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم اور غلام تھے مگر ان کے اس درجہ نے بھی ان کی اولاد کو نہ بیچایا اور ان میں سے ایک نے ایسا فعل کیا کہ چاہے ابو بکر کا لحاظ کر کے ہم بولیں نہیں مگر ہمارے دل اُس پر لعنت کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ابوبکر بھی قیامت کے دن اُس پر لعنتیں ہی ڈالیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ محمد رسول اللہ کی مہربانی جوش میں آ جائے اور آپ کہہ دیں کہ اسے معاف کر دو۔بہر حال نہ ابو بکر نے اپنے بیٹے کو بچایا اور نہ نورالدین اپنے بیٹے کو بچا سکتا ہے۔خدا کی لعنت آتی ہے تو نوح جیسے عظیم الشان نبی کے بیٹے پر بھی آ گرتی ہے۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر تم گناہ کرو گی تو تم دہرے عذاب کی مستحق ہو گی۔4 یہ نہیں کہا کہ ایک بڑے خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے تمہارا عذاب کم کر دیا جائے گا۔بلکہ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرو گی تو دُہرے عذاب میں مبتلا کی جاؤ گی۔پس بڑے آدمی کا بیٹا ہونا اُسے سزا سے بچاتا نہیں بلکہ اور زیادہ عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے بشرطیکہ وہ تو بہ نہ کرے۔ہاں! اگر وہ توبہ کر لے تو پھر کہنے کی ضرورت نہیں۔ہر شخص اس کی عزت کرتا ہے۔لیکن جب خدا کسی کی عزت کو کھونا چاہے تو پھر کوئی شخص اُسے عزت نہیں دے سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا تھا ه إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ 5 میں اس شخص کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت اور اہانت کا ارادہ کرے گا۔چنانچہ جب پادری مارٹن کلارک نے آپ پر قتل کا مقدمہ کیا تو مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھی جوش آ گیا اور اُس نے بھی اپنا نام گواہوں میں لکھوا دیا اور کہا کہ مرزا صاحب فسادی آدمی ہیں کوئی تعجب نہیں کہ انہوں نے کسی آدمی کو اسے قتل کرنے کے لیے بھجوا دیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مقدمہ کے لیے لاہور سے ایک غیر احمدی وکیل بلوایا جو اپنے کام میں بہت ہوشیار تھا۔اُس نے گریدنا شروع کیا کہ میں کیا جرح کروں