خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 311

311 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 دس ہزار نورالدین بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔بیشک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کی بڑی تعریف فرمائی ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی نورالدین صاحب کی بڑی تعریف کی ہے۔مگر قرآن اس لیے نہیں اُترا تھا کہ ابوبکر کی عزت قائم کی جائے نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں یہ کہیں ذکر آتا ہے کہ ہم نے تجھے اس لیے مبعوث کیا ہے کہ تو نورالدین کی عزت قائم کرے۔ہاں! جو سچائی اور حقیقت تھی اُس کا آپ نے اظہار کر دیا۔مثلاً آپ نے فرمایا چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے 1 مگر یہ تو ایک سچائی ہے جو کہنی چاہیے تھی۔جس نے قربانی کی ہو اُس کی قربانی کا اظہار نہ کرنا ناشکری ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک مریض آیا اور اُس نے ذکر کیا کہ مولوی صاحب سے میں نے علاج کروایا تھا جس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس دن بیمار تھے۔مگر جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ اُسی وقت اُٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت اماں جان سے فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہی مولوی صاحب کو تحریک کر کے یہاں لایا ہے اور اب ہزاروں لوگ ان سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔اگر مولوی صاحب یہاں نہ آتے تو ان لوگوں کا کس طرح علاج ہوتا۔پس مولوی صاحب کا وجود بھی خدا تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے تو آپ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کی ناشکری سے بچے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو دیکھ لو آیا کسی الہام میں بھی یہ ذکر آتا ہے کہ اے مسیح موعود! میں نے تجھے اس لیے مبعوث کیا ہے کہ تو نورالدین کی عزت قائم کرے؟ یا قرآن میں کوئی آیت ایسی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہو کہ اے محمد رسول اللہ ! میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو ابوبکر کی عزت قائم کرے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کے حق میں جو فقرات کہے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی نورالدین صاحب کے حق