خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 310

$1956 310 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو گہر نہیں ہوتی۔اس لیے وہاں میری طبیعت بہت اچھی رہی۔جب ہم لندن گئے تو چونکہ وہاں گہر بہت ہوتی ہے اس لیے ٹھنڈ کے باوجود طبیعت کی خرابی کے دورے ہوتے رہے اور جگر کی خرابی کی بھی شکایت ہو گئی۔مری میں بھی ایسا ہی ہوا۔بارش اور نمی کی وجہ سے نزلہ کا پانی ناک سے سینہ پر گرتا ہے اور اس سے بجائے صحت میں ترقی ہونے کے کوفت محسوس ہوتی ہے اور جگر کے مقام پر بھی درد ہونے لگتا ہے۔پھر کبھی قبض کی شکایت ہو جاتی ہے اور کبھی اسہال کی۔یوں نمازیں پڑھانے کے لیے میں آتا رہا ہوں اور بڑی آسانی سے بغیر کسی قسم کا بوجھ ہے محسوس کیے آتا رہا ہوں مگر پیچھے جب بارشیں ہوئیں تب بھی تکلیف ہو گئی اور آج بھی بارش ور گہر کی وجہ سے ناک سے پانی بہتا ہے اور جسم میں کوفت اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔اب ہمارے جانے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے صرف پانچ دن رہ گئے ہیں۔جس علاقہ میں اب ہم نے جانا ہے وہاں بارش کم ہوتی ہے اور گہر تو بہت ہی کم ہوتی ہے اور ربوہ کی نسبت وہ جگہ ٹھنڈی بھی ہے۔میں امید کرتا ہوں (آگے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) کہ وہاں جا کر طبیعت اچھی ہو جائے گی کیونکہ وہ علاقہ بھی زیورک کے علاقہ کی طرح ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے بوجہ گہر اور نمی کے میری طبیعت اس وقت کوفت محسوس کر رہی ہے تاہم مختصراً میں اس فتنہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت پیدا ہوا ہے۔کئی وست اس فتنہ کی وجہ سے گھبرا رہے ہیں اور کئی دوست ایسے ہیں جو اصل حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اسے ایک معمولی بات سمجھتے ہیں۔میں ان باتوں کے متعلق إِنْشَاءَ اللہ ایک علیحدہ مضمون لکھوں گا۔مگر اس وقت بھی میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس حقیقت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔آج سارے مسلمان اُن فتنہ پردازوں کو بُرا سمجھتے ہیں جو حضرت عثمان کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔مگر اُس وقت مسلمان اُن کی باتوں کو سن کر ہنستے رہے اور کسی نے نہ سمجھا کہ ایسے منافقین کا مقابلہ کرنا ان چاہیے۔صرف اس لیے کہ محمد بن ابی بکر اس میں شامل تھا انہوں نے خیال کر لیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اول کا لڑکا اس میں شامل ہے تو اب کیا ہو سکتا ہے۔حالانکہ نظام اسلام پر دس ہزار ابوبکر بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔جس طرح نظام احمدیت