خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 275

خطبات محمود جلد نمبر 37 275 $1956 ابھی تو صرف ہزاروں روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔پھر کوئی وقت ایسا آئے گا کہ صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کا تین تین ارب کا بجٹ ہو گا۔پھر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کا تین تین کھرب کا بجٹ ہو گا۔یعنی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کا سالانہ بجٹ بہتر کھرب کا ہو گا۔پھر یہ بجٹ پدم پر جا پہنچے گا۔کیونکہ دنیا کی ساری دولت احمدیت کے قدموں میں جمع ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر لکھا ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔مجھے یہ فکر ہے کہ اُس روپیہ کو دیانتداری کے ساتھ خرچ کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ 4 چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت رکھ دی کہ باوجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں جو دلوں میں جوش پیدا کرنے والے نہیں پھر بھی صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھا رہتا ہے کیونکہ وصیت ان کے پاس ہے۔اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دوتین لاکھ روپیہ زیادہ ہے۔حالانکہ تحریک کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی یا یورپ کے کسی اور ملک میں ہوتی تو ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو کروڑ روپیہ سالانہ ان کی آمد ہوتی۔مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھا رہتا ہے۔اسی لیے اب وصیت کا نظام میں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔گو امریکہ کے مبلغ اس معاملہ میں بہت سستی سے کام لے رہے ہیں۔میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ہے اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغوں کے لیے اور مشنوں کے لیے اور مسجدوں کی تعمیر کے لیے بہت بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی۔غرض یہ خدا کا ایک بہت بڑا نشان ہے جو اُس نے اپنے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے ظاہر کیا ہے۔اب تمہارا کام ہے کہ تم ان نشانات سے فائدہ اُٹھاؤ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑ لو کہ وہ تم سے کبھی جدا نہ ہو تمہیں اگر ایک