خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 274

خطبات محمود جلد نمبر 37 274 $1956 غرض زمانے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے چلے جائیں گے۔ایک زمانہ میں لوگ اربوں ارب روپیہ دیں گے اور انہیں پتا بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے مال میں سے کچھ کم ہوا ہے کیونکہ دینے والے کھرب پتی ہوں گے اور جب وہ ہیں یا تمھیں یا پچاس ارب روپیہ دیں گے تو انہیں پتا بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے خزانہ میں کوئی کمی آئی ہے۔اُس وقت اُنہیں یاد بھی نہیں رہے گا کہ کسی زمانہ میں پچاس روپیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لیے بھی دعائیں کرنی پڑتی تھیں۔تم تذکرہ پڑھو تو تمہیں اس میں یہ لکھا ہوا دکھائی دے گا کہ ایک دفعہ ہمیں پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل اللہ پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے۔اس وقت ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔تب ہم نے وضو کیا اور جنگل میں جا کر دعا کی۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ :۔”دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں“ 3 اس کے بعد ہم واپس آئے تو بازار سے گزرے اور ڈاکخانہ والوں سے پوچھا کہ کیا ہمارے نام کوئی منی آرڈر آیا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپے آپ کے نام بھجوا دیئے گئے ہیں۔چنانچہ اُسی دن یا دوسرے دن وہ روپیہ ہمیں مل گیا۔غرض ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پچاس روپوں کے لیے بھی فکر ہوتا تھا کہ وہ کہاں سے آئیں گے۔اور یا اب یہ حالت ہے کہ سندھ میں جو میری اور سلسلہ کی زمینیں ہیں اُن پر تین ہزار روپیہ ماہوار تک تنخواہوں کا ہی دینا پڑتا ہے۔گویا کجا تو یہ حالت تھی کہ پندرہ سو روپیہ ماہوار کا خرچ ساری جماعت کے لیے بوجھ سمجھا جاتا تھا اور پچاس روپیہ کی ضرورت کو اتنا شدید سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لیے خاص طور پر علیحدگی میں دُعا کرنا ضروری سمجھا اور گجا یہ حالت ہے کہ اُسی شخص کا بیٹا سینکڑوں روپیہ ماہوار اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دیتا ہے اور انجمن کے افسروں کو ملا کر وہ رقم ہزاروں روپیہ کی بن جاتی ہے اور ربوہ کے دفتروں کو ملا کر کوئی نوے ہزار ماہوار کی رقم بن جاتی یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے جو ہر شخص کو دکھائی دے سکتا ہے۔مگر ابھی کیا۔