خطبات محمود (جلد 37) — Page 273
خطبات محمود جلد نمبر 37 273 $1956 بہر حال ہر زمانہ کے لحاظ سے خدا اپنی زندگی کا ثبوت دیتا چلا آیا ہے۔اُس زمانہ میں چار سو روپیہ کا مل جانا خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ایک ثبوت تھا اور اس زمانہ میں کبھی کبھی ای چالیس پچاس ہزار روپے دے کر اُس نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔اور آج خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت دو اڑھائی سو پونڈ ہیں جو ایک دوست نے اطلاع ملتے ہی لندن بنک میں جمع کروا دیئے۔اسی طرح اس ترکی پروفیسر کا وہ روپیہ بھی زندہ خدا کا ایک نشان ہے جو اُس نے اپنے اوپر خرچ کرنے کی بجائے مجھے دین پر خرچ کرنے کے لیے بھجوا دیا۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت اُس حبشی چیف کا واقعہ ہے جس نے احمدیہ پریس کے لیے ، ہزار پونڈ دو قسطوں میں دے دیا۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت افریقہ کے اس دوست کا خط ہے جنہوں نے یہ لکھا کہ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔آپ روپیہ کے متعلق کسی قسم کی فکر نہ کریں۔بیرونی مشنوں کے لیے جتنے پونڈوں کی ضرورت ہو ہمیں لکھیں ہم کسی نہ کسی طرح جمع کر دیں گے۔غرض خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت مہیا کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مومن بندوں کے ایمانوں کو بڑھاتا رہتا ہے۔مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب اشتہار چھپوانے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں ہوتا تھا۔میں جب خلیفہ ہوا اور غیر مبائعین کے مقابلہ میں میں نے پہلا اشتہار لکھا تو اُس وقت ہماری مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس کا علم ہوا جو اُس وقت ہسپتال اور مسجد کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے۔انہوں نے اڑھائی سو روپیہ کی پوٹلی لا کر میرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ آپ اس روپیہ کو استعمال کر لیں۔جب آپ کے پاس روپیہ آئے گا تو وہ مجھے دے دیں۔چنانچہ پہلا اشتہار ہم نے انہی کے روپیہ سے شائع کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے وہ دن دکھایا کہ یا تو دوسو اور اڑھائی سو کے لیے ہمارے کام رُکے ہوئے تھے اور یا آب ایک ایک شخص ہی ہیں ہیں ہزار روپیہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔مثلاً پچھلے سال میں بیمار ہوا تو ڈاکٹروں نے مجھے ولایت جانے کا مشورہ دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو یہ تو فیق عطا فرمائی کہ اس نے ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اس غرض کے لیے جمع کر دیا۔