خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 272

$1956 272 خطبات محمود جلد نمبر 37 ساتھ اُٹھا سکتا ہے۔اُس وقت بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ لنگر میں آٹا نہیں ہوتا تھا اور منتظمین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں روپیہ کے لیے درخواست کرنی پڑتی تھی۔1905ء میں جب زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کچھ عرصہ کے لیے باغ میں تشریف لے گئے تو مجھے خوب یاد ہے ایک دن آپ باہر سے آئے تو اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد وثنا کر رہے تھے۔اُس وقت آپ نے حضرت اماں جان کو بلایا اور فرمایا یہ گھڑی لے لو اور دیکھو کہ اس میں کتنی رقم ہے؟ حضرت اماں جان نے کمرہ سے باہر نکل کر بتایا کہ اس کپڑے میں چار سو یا پانچ سو کی رقم ہے۔آپ نے فرمایا آج ہی لنگر والے آٹے کے لیے روپیہ مانگ رہے تھے اور میرے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا اور میں حیران تھا کہ اس کا کیا انتظام ہوگا۔اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک غریب آدمی جس نے میلے سے کپڑے پہنے ہوئے تھے آیا اور اس نے یہ گٹھڑی مجھے دے دی۔میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے ہی ہوں گے۔لیکن اب معلوم ہوا کہ روپے تھے۔اس پر آپ دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے کہ اُس نے کیسا فضل نازل فرمایا ہے۔بیشک اس وقت ہماری نگاہ میں چار سو روپیہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا لیکن اُس وقت ہم ان چیزوں کو دیکھتے تو ہمارا ایمان تازہ ہوتا تھا اور اب ہمیں اس سے سینکڑوں گنے زیادہ روپیہ ملتا ہے اور وہ روپیہ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے مجھے اپنی عمر میں بعض غیر احمدیوں نے دو دو، تین تین، چار چار ہزار روپیہ نذرانہ کے طور پر دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپ کو چار سو روپیہ ملا تو آپ نے سمجھا کہ شاید اس میں پیسے ہی ہوں گے۔ورنہ اتنا روپیہ کون دے سکتا ہے۔آج اگر وہی زمانہ ہوتا تو وہ لوگ جو اس وقت افسوس کر رہے ہیں اُن کو بھی قربانی موقع مل جاتا اور ہر شخص قربانی کر کے سمجھتا کہ مجھے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا موقع عطا فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے لیکن وہ زمانہ تو گزر گیا۔اب پھر ایک دوسرا زمانہ آ گیا ہے جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے دین کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہا ہے۔