خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 262

$1956 262 خطبات محمود جلد نمبر 37 روپیہ دینے کی اپنے اندر توفیق نہیں پاتے۔وہ بڑے مالدار ہوتے ہیں مگر اتنا چندہ دینے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس سے پہلے جب اس چیف نے پانچ سو پونڈ چندہ دیا تھا تو میں ایک شامی تاجر سے بھی ملا تھا۔میں نے اُسے تحریک کی کہ وہ بھی اس کام میں حصہ لے۔اور میں نے اُسے کہا کہ فلاں گاؤں کا جو رئیس ہے اُس نے پانچ سو پونڈ چندہ دیا ہے۔وہ کہنے لگا کہ میری طرف سے بھی آپ پانچ سو پونڈ لکھ لیں اور پھر کہا کہ میں اس وقت پانچ سو پونڈ لکھواتا ہوں مگر میں دوں گا اُس چیف سے زیادہ۔- یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ایک معمولی گاؤں کا چیف ہے اور پھر احمدیت کا اتنا مخالف ہے کہ کہتا ہے کہ اگر دریا اُلٹا چلنے لگے تو یہ ممکن ہے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کہ میں احمدی ہو سکوں۔مگر پھر خدا تعالیٰ اسے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور نہ صرف احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے بلکہ یکدم اسے کی ہزاروں روپیہ سلسلہ کو پیش کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔یہ تو ایک بیرونی ملک کی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ ہمارا خدا کس طرح ایک زندہ خدا ہے اور وہ اپنے بندوں کی کیسے معجزانہ رنگ میں تائید اور نصرت فرماتا ہے۔اب میں اپنی مثال بیان کرتا ہوں۔میں نے پچھلے دنوں تحریک جدید کے بیرونی مشنوں کے متعلق ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں میں نے ذکر کیا تھا کہ تحریک جدید کے پاس بیرونی مشنوں کے لیے اتنا کم روپیہ رہ گیا ہے کہ شاید اب ہمیں اپنے مشن بند کرنے پڑیں مگر ادھر میں نے یہ خطبہ پڑھا اور اُدھر اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھو کہ ایک دن میں نے ڈاک کھولی تو اس میں ہمارے ایک مبلغ کا خط نکلا جس میں اُس نے لکھا کہ ایک جرمن ڈاکٹر نے احمدیت کے متعلق کچھ لڑیچر پڑھا تو اُس نے ہمیں لکھا کہ مجھے اور لٹریچر بھجواؤ۔چنانچہ اس پر میں نے آپ کا لکھا ہوا دیباچہ قرآن اُسے بھجوا دیا۔دیباچہ پڑھ کر اُس نے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس کو اپنے ملک میں چھاپا جائے اور بڑی کثرت سے یہاں پھیلایا جائے اور میں اس بارہ میں آپ کی ہر طرح مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔پھر اُس نے لکھا کہ یہاں ہیں لاکھ جرمن نسل کے مسلمان پائے جاتے ہیں۔اگر دیباچہ کا یہاں کی زبان میں ترجمہ ہو جائے تو ہیں لاکھ مسلمان عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے