خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 261

$1956 261 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس کے معنے صرف ایک چھوٹے نمبردار کے ہوتے ہیں۔وہاں قاعدہ یہ ہے کہ لوگ اپنے کی چیف کا خود انتخاب کرتے ہیں۔گاؤں والے اپنے چیف کا انتخاب کرتے ہیں اور شہروں والے اپنے چیف کا انتخاب کرتے ہیں۔گاؤں کا چیف چھوٹا چیف ہوتا ہے۔قصبہ کا چیف اس سے بڑا چیف ہوتا ہے اور شہروں کے چیف ان سے بڑے ہوتے ہیں۔پھر ہر ضلع کے الگ الگ چیف ہوتے ہیں جنہیں پیرامونٹ چیف کہتے ہیں یعنی راجوں کا راجہ۔بہر حال وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ میں اس چیف کی طرف گیا جو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا احمدیت میں داخل ہوا تھا اور جو کسی زمانہ میں احمدیت کا اتنا مخالف ہوا کرتا تھا کہ اُس نے یہ کہا تھا کہ دریا اپنا رُخ بدل سکتا ہے اور وہ نیچے سے اوپر کی طرف بہہ سکتا ہے لیکن میں احمدی نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ جو نہی وہ احمدی ہوا اُس کی زمین میں سے ہیروں کی کان نکل آئی اور گو قانون کے مطابق گورنمنٹ کی نے اُس پر قبضہ کر لیا مگر اُسے کچھ رائلٹی (ROYALTY) وغیرہ دینی پڑی جس سے یکدم اس کی مالی حالت اچھی ہونی شروع ہو گئی اور جماعتی کاموں میں بھی اس نے شوق سے حصہ لینا شروع کر دیا۔بہر حال وہ لکھتے ہیں کہ میں اس کی طرف جا رہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ابھی اس کا گاؤں آٹھ میل پرے تھا کہ وہ مجھے ایک دوسری لاری میں بیٹھا ہوا نظر آ گیا اور اُس نے بھی مجھے دیکھ لیا۔اُس وقت وہ اپنے کسی کام کے سلسلہ میں کہیں جا رہا تھا۔وہ مجھے دیکھتے ہی لاری سے اتر پڑا اور کہنے لگا کہ آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس طرح ایک عیسائی اخبار نے لکھا ہے کہ ہم نے تو ان کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اگر مسیح کے مقابلہ میں ان کے خدا میں بھی کوئی طاقت ہے تو وہ کوئی معجزہ دکھا دے۔وہ کہنے لگا آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی گاؤں سے ہو کر آتا ہوں۔چنانچہ وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی اُس کی نے پانچ سو پونڈ لا کر ہمارے مبلغ کو دے دیا۔پانچ سو پونڈ وہ اس سے پہلے دے چکا تھا۔گویا تیرہ ہزار کے قریب روپیہ اُس نے دے دیا اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ پریس کا جلدی انتظام کریں تا کہ ہم عیسائیوں کو جواب دے سکیں کہ اگر تم نے ہمارا اخبار چھاپنے سے انکار کر دیا تھا تو اب ہمارے خدا نے بھی ہمیں اپنا پر لیس دے دیا ہے۔ایک ہزار پونڈ ہمارے ملک کی کے لحاظ سے تیرہ ہزار روپیہ بنتا ہے اور یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ بڑے بڑے تاجر بھی اتنا