خطبات محمود (جلد 37) — Page 263
$1956 263 خطبات محمود جلد نمبر 37 سے بچ جائے گا اور وہ احمدیت کو قبول کر لے گا۔گویا ہم تو یہ ڈر رہے تھے کہ کہیں خدا نخواستہ ہمارے پہلے مشن بھی بند نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ہماری تبلیغ کے لیے نئے راستے کھول دیئے۔پھر جب خطبہ شائع ہوا تو باہر سے بھی اور اندر سے بھی ہمارے خدا کے زندہ ہونے کی کثرت سے مثالیں ملنی شروع ہو گئیں۔ایک غیر احمدی کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا تو میرا دل کانپ گیا کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی تکلیف کی وجہ سے کس قدر دُکھ ہوا ہے۔میں سو روپیہ کا چیک آپ کو بھجوا رہا ہوں آپ اس روپیہ کو جس طرح چاہیں خرچ کریں۔پھر ایک اور خط کھولا تو وہ ایک احمدی کا تھا اور اُس میں یہ لکھا تھا کہ میں سو روپیہ بھجوا رہا ہوں تاکہ بیرونی مشنوں کے اخراجات میں جو کمی آئی ہے وہ اس سے پوری ہو سکے۔پھر ایک عورت کا خط آیا کہ میں پچاس روپے بھجوا رہی ہوں تا کہ جو نقصان ہوا ہے اُس کا ازالہ ہو سکے۔پھر چوتھا خط میں نے کھولا تو اس میں ایک ترکی پروفیسر کا ذکر تھا۔ہمارا ایک احمدی ان دنوں ایک ٹر کی پروفیسر سے ترکی زبان سیکھ رہا ہے اور ایک سو بیس روپیہ ماہوار اُسے ٹیوشن دیتا ہے۔وہ تحرکی پروفیسر اسلام کا دشمن تھا اور رات دن اسلام اور ہستی باری تعالیٰ پر اعتراض کرتا رہتا تھا۔وہ احمدی لکھتا ہے کہ میں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ چاہے میری پڑھائی ضائع ہو جائے میں نے ہی آج اس سے مذہبی بحث کرنی ہے۔چنانچہ میں اس سے بحث کرتا رہا اور پھر میں نے اُسے آپ کا لکھا ہوا دیباچہ قرآن دیا کہ وہ اسے پڑھے۔وہ دیباچہ لے گیا اور پڑھنے کے بعد مجھے کہنے لگا کہ میں آج سے پھر مسلمان ہو گیا ہوں۔پھر جب مہینہ ختم ہوا اور میں اسے روپیہ دینے کے لیے گیا تو وہ کہنے لگا کہ تم مجھے پر یہ مہربانی کرو کہ یہ روپیہ میری طرف سے اپنے امام کو بھجوائی دو اور انہیں کہو کہ وہ جس طرح چاہیں اس روپیہ کو خرچ کریں۔اب دیکھو ایک دہر یہ انسان ہے، خدا تعالیٰ پر رات دن ہنسی اُڑاتا رہتا ہے، اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا لیکن اس پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ جب اسے ٹیوشن کی فیس پیش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ مجھے نہ دو بلکہ اپنے امام کے پاس بھیج دو اور انہیں کہو کہ وہ اسے جس طرح چاہیں خرچ کریں۔اس کے بعد میں نے جو پانچواں خط کھولا وہ ایک احمدی دوست کا تھا جو انڈونیشیا سے