خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 260

$1956 260 خطبات محمود جلد نمبر 37 یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پر لیس میں چھپ جایا کرتا تھا۔اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا پریس کوئی نہیں اس لیے اب ہم دیکھیں گے کہ یہ جو مسیح کے مقابلہ میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں اس کی کیا طاقت ہے۔اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لیے خود سامان پیدا کرے۔وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی اور میں نے سمجھا کہ گو ہماری یہاں تھوڑی سی جماعت ہے لیکن بہر حال میں انہی کے پاس جا سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ اس موقع پر وہ ہماری مدد کریں تا کہ ہم اپنا پریس چنانچہ وہ لکھتے ہیں میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین سو میل پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اُسے تحریک کروں کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔یہ شخص جس کے پاس ہمارا مبلغ گیا کسی زمانہ میں احمدیت کا شدید مخالف ہوا کرتا تھا۔اتنا سخت مخالف کہ ایک دفعہ کوئی احمدی اُس کے ساتھ دریا کے کنارے جا رہا تھا کہ اُس احمدی نے اسے تبلیغ شروع کر دی۔وہ دریا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ دیکھو! یہ دریا ادھر سے اُدھر بہہ رہا ہے۔اگر یہ دریا یکدم اپنا رُخ بدل لے اور نیچے سے اوپر کی طرف اُلٹا بہنا شروع کر دے تو یہ ممکن ہے لیکن میرا احمدی ہونا ناممکن ہے۔مگر کچھ دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی بڑا عالم فاضل نہیں بلکہ ایک لوکل افریقن احمدی اُس سے ملا اور چند دن اُس سے باتیں کیں تو وہ احمدی ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی مدد کی اور اس کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہو گئی۔وہ افریقن اپنے گاؤں کا چیف یعنی رئیس ہے۔مگر ہمارے ملک کے رئیسوں اور ان کے رئیسوں میں فرق ہوتا ہے۔اُن کے رئیس اُن کے رئیس اور چیف عموماً ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں نمبردار اور سفید پوش ہوتے ہیں۔گو بعض چیف بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں۔مثلاً لندن میں میری ریسپشن (RECEPTION) کے موقع پر جو افریقن چیف آیا اُس کے ماتحت تین لاکھ آدمی تھا۔گویا ریاست پٹیالہ سے بھی بڑی ریاست اس کے ماتحت تھی۔پس بے شک بعض بڑے بڑے چیف بھی ہوتے ہیں لیکن عموماً وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے نمبردار اور سفید پوش ہوتے ہیں۔جب ہم ان کے متعلق چیف کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو بعض احمدی اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی بہت بڑا رئیس مراد ہے حالانکہ