خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 191

191 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 جا رہی ہیں۔پہلے عیسائی ممالک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف رات اور دن جھوٹ بولتے رہتے تھے۔ہم نے اُن افتراؤں کا جواب دینے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی شان دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے اپنے مبلغ بھیجے تو اب ان مبلغوں کی آواز کو قانون کے زور سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسلام کی تبلیغ سے انہیں جبراً روکا جاتا ہے۔مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی بلندی کے لیے عیسائی حکومتوں پر زور دیں کہ وہ سپین کو اس سے روکیں ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ ہم عیسائی مبلغوں کو اپنے ملکوں سے نکال دیں۔دیکھو! سویز کے معاملہ میں مصر کی حکومت ڈٹ گئی اور آخر اس نے روس کو اپنے ساتھ ملا لیا۔اگر سویز کے معاملہ میں مصر ڈٹ سکتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی بلندی کے لیے اگر پاکستان کی حکومت ڈٹ جائے تو کیا وہ دوسری اسلامی حکومتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکتی ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت یقینا کروڑ کروڑ سویز سے بڑھ کر ہے۔اگر ایک سویز کے لیے امریکہ اور برطانیہ کے مقابلہ میں مصر نے غیرت دکھائی اور وہ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تو کیا دوسری اسلامی حکومتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اتنی ہی غیرت بھی نہیں دکھا سکتیں۔انہیں عیسائی حکومتوں سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے کہ یا تو تم سلامی مبشرین کو اجازت دو کہ وہ تمہارے ملکوں میں اسلام کی اشاعت کریں ورنہ تمہارا بھی کوئی حق نہیں ہو گا کہ تم ہمارے ملکوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرو۔اگر تم ہمارے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کر سکتے ہو تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ ہم اسلام کی باتیں نہیں سن سکتے۔بیشک ہمارے مذہب میں رواداری کی تعلیم ہے مگر ہمارے مذہب کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ بے انصافی کرے تو تم بھی اُس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔یہ ایک نہایت صاف اور سیدھا طریق ہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمان حکومتوں کا ذہن اِدھر نہیں جاتا اور وہ اسلام کے لیے اتنی بھی غیرت نہیں دکھاتیں جتنی کرنل ناصر نے سویز کے متعلق غیرت دکھائی۔اگر مسلمان حکومتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سویز جتنی غیرت بھی دکھائیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جائیں اور اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل جائیں۔