خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 190

خطبات محمود جلد نمبر 37 190 $1956 پروٹسٹ کرو اور کہو کہ اگر تم نے اسلام کے مبلغوں کو اپنے ملک سے نکالا تو ہم بھی عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے۔بیشک اسلام ہمیں مذہبی آزادی کا حکم دیتا ہے مگر اسلام کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ جَزَ و سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا 1 یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے تو تمہیں بھی حق ہے کہ تم اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔پس اگر کوئی حکومت اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کو روکتی ہے تو مسلمان حکومتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اُس کے مبلغوں کو اپنے ملک میں تبلیغ نہ کرنے دیں۔اسی طرح چاہیے کہ ہماری گورنمنٹ انگلستان کی حکومت کے پاس بھی اس کے خلاف احتجاج کرے اور کہے کہ یا تو سپین کی حکومت کو مجبور کرو کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت دے، نہیں تو ہم بھی اپنے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کو بالکل روک دیں گے۔اسی طرح وہ امریکہ کے پاس احتجاج کرے اور کہے کہ وہ ہسپانوی گورنمنٹ کو اپنے اس فعل سے رو کے ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ ایک ایسا ملک جو پاکستان دوستانہ تعلقات رکھتا ہے ایک اسلامی مبلغ کو نوٹس دیتا ہے کہ تم ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کیوں کرتے ہو۔ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سات نوجوان ہمارے مبلغ کے پاس بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ سی۔آئی۔ڈی کے کچھ آدمی وہاں آ گئے اور انہوں نے کہا کہ تم حکومت کے باغی ہو کیونکہ حکومت کا مذہب رومن کیتھولک ہے اور ہم نے سنا ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو۔اُن نوجوانوں نے کہا ہم حکومت کے تم سے بھی زیادہ وفادار ہیں لیکن اس امر کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا دراصل پادریوں نے حکومت کے پاس شکایت کی ہے کہ یہاں اسلام کی تبلیغ کی جاتی ہے اور گورنمنٹ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تمہاری نگرانی کریں۔انہوں نے کہا تم ہمیں دوسرے کی باتیں سننے سے نہیں روک سکتے۔اگر ہمارا دل چاہا تو ہم مسلمان ہو جائیں گے۔لیکن تمہیں کوئی اختیار نہیں کہ تم دوسروں پر جبر سے کام لو۔اُس وقت سے یہ مخالفت کا سلسلہ جاری تھا جو آخر اس نوٹس کی شکل میں ظاہر ہوا۔بہر حال یہ ایک نہایت افسوسناک امر ہے کہ بعض عیسائی ممالک میں اب اسلام کی تبلیغ پر بھی پابندیاں عائد کی کی ہی