خطبات محمود (جلد 37) — Page 192
$1956 192 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور جب اسلام کی تبلیغ کے رستے کھل گئے تو یقیناً سارا یورپ اور امریکہ ایک دن مسلمان ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے جن دنوں میں رتن باغ میں مقیم تھا امریکہ کا قونصل جنرل مجھ سے ملا اور میں نے اُس سے کہا کہ تمہارے مبلغ ہمارے ملک میں آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اور ہم انہیں کچھ نہیں کہتے لیکن تمہاری حکومت ہمارے مبلغوں پر پابندی عائد کرتی اور انہیں اپنے ملک میں آنے سے روکتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے؟ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عام طور پر جو ہندوستانی جاتے ہیں وہ ارڈر پوپو 2 ہوتے ہیں یعنی لوگوں کے ہاتھ دیکھ دیکھ کر پیسے بٹورتے پھرتے ہیں۔اس وجہ سے ہمارے ملک میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عیسائیوں کے سوا اور کسی قوم میں مبلغ نہیں ہوتے کیونکہ وہاں جو بھی آتے ہیں مانگنے کے لیے آتے ہیں۔لیکن یہاں آکر میں نے دیکھا ہے کہ آپ اپنے مبلغوں کو با قاعدہ خرچ دیتے ہیں اور وہ اسلام کی تبلیغ کے سوا کوئی اور کام نہیں کرتے۔پس میں اپنی حکومت کو لکھوں گا کہ یہ لوگ چونکہ مانگنے والوں میں سے نہیں ہیں بلکہ اپنے مبلغوں کو با قاعدہ خرچ دیتے ہیں اس لیے ان کے آنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔چنانچہ اس نے اپنی حکومت کو لکھا اور کچھ دنوں کے بعد اُس نے ہمیں اطلاع دی کہ حکومت امریکہ کی طرف سے ہدایت کر دی گئی ہے کہ آئندہ احمدی مبلغوں کو نہ روکا جائے کیونکہ انہیں با قاعدہ خرچ ملتا ہے۔یہ 1948ء کی بات ہے۔اس کے بعد گورنمنٹ امریکہ نے ہمارے کسی مبلغ پر پابندی عائد نہیں کی۔وہ قونصل جنرل بہت ہی شریف انسان تھا اور اُس سے ملاقات بھی اتفاقی ہی ہو گئی۔ایک دعوت کے موقع پر گورنر کے پاس امریکہ کا قونصل جنرل بیٹھا ہوا تھا۔اُس کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جو روسی تھی اور اس قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس نے میرے نام کی چٹ کے ساتھ مرزا کا لفظ دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگی کہ آپ مرزا کس طرح ہو گئے؟ میں نے کہا میں واقع میں مرزا ہوں۔کہنے لگی مرزا تو روسی ہوتے ہیں۔ہمارے کا کیشیا 3 میں بڑی کثرت سے مرزا پائے جاتے ہیں۔پھر وہ کہنے لگی میں نے جب آپ کے نام کے ساتھ مرزا کا لفظ پڑھا تو مجھے تعجب ہوا کہ پاکستان میں ا