خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 153

$1956 153 خطبات محمود جلد نمبر 37 کے غلام تھے اور ان کے والد اور دوسرے رشتہ دار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ زید کو آزاد کر دیں تو وہ ہمارے ساتھ چلا جائے۔آپ نے کی مکہ کے دستور کے مطابق خانہ کعبہ میں جا کر اعلان فرما دیا کہ میں نے زید کو آزاد کر دیا ہے اور وہ اب جہاں چاہیے جا سکتا ہے۔اس پر حضرت زید کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا آپ نے تو مجھے آزاد کر دیا ہے لیکن میں آپ سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔بلکہ ہمیشہ آپ کی غلامی میں ہی رہوں گا۔12 اس طرح فقہاء نے بھی اس مسئلہ پر بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ غلام کو یہ حق حاصل ہے کہ جب اُس کا مالک اُسے آزاد کرنا چاہے تو وہ آزادی قبول کرنے سے انکار کر دے۔مثلاً ایک ایسا غلام جس کا مالک اُس پر ہزاروں روپیہ خرچ کرتا ہے۔وہ اگر آزاد ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اُن ہزاروں روپوں سے محروم ہو جائے۔اس لیے اگر وہ آزاد ہونے سے انکار کر دے تو یہ اُس کا حق ہوگا۔پس اسلام نے اس بات سے تو منع کیا ہے کہ کسی کو غلام بنایا جائے لیکن اگر کوئی شخص خود کسی کی غلامی قبول کرے تو اسلام نے اس سے منع نہیں کیا۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت اگر تم دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بھی غلام تھے اور حضرت نوح علیہ السلام کے بھی غلام تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھی غلام تھے، حضرت موسی علیہ السلام کے بھی غلام تھے، حضرت عیسی علیہ السلام کے بھی غلام تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی غلام تھے۔لیکن یہ غلام وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ ہی آپ غلامی کو قبول کر لیا تھا۔کسی نے انہیں غلام بننے پر مجبور نہیں کیا تھا۔آخر حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور دوسرے صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہی تو تھے بلکہ یہ لوگ غلاموں سے بھی بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے تھے۔مگر انہوں نے خود اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے لیے پیش کیا تھا کسی نے ان کو جبراً غلام نہیں بنایا تھا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کے ہمرا ہ کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے اپنے ایک بڑے آدمی کو آپ کے پاس سفیر عمرہ