خطبات محمود (جلد 37) — Page 154
$1956 154 خطبات محمود جلد نمبر 37 بنا کر بھیجا۔اُس نے واپس جا کر اُن سے کہا کہ اے میری قوم! تم مانو یا نہ مانو میری نصیحت یہی ہے کہ تم مسلمانوں سے جنگ نہ کرو۔کفار نے کہا تمہیں تو ہم نے مسلمانوں سے شرائط طے کرنے کے لیے بھیجا تھا اور تم ہمیں یہ نصیحت کر رہے ہو۔اُس نے کہا اے میری قوم! میں نے قیصر و کسری کے دربار بھی دیکھے ہیں۔لیکن میں نے کسی قوم میں اتنی فدائیت نہیں پائی جتنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں پائی جاتی ہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نماز کا وقت تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے وضو فرمانے لگے تو آپ کی گہیوں سے جو پانی گرتا تھا صحابہ کرام دوڑ دوڑ کر اسے ہاتھوں میں لیتے اور تبرک کے طور پر منہ میں ڈال لیتے یا اپنے جسموں پر مل لیتے۔اس نظارہ کا اُس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ کہنے لگا میں نے اس قسم کی اطاعت کا رنگ قیصر و کسری کے درباروں کی میں بھی نہیں دیکھا۔13 اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر جب ابوسفیان گرفتار ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا اسے صبح لانا۔چنانچہ صبح حضرت عباس ابوسفیان کو اپنے ساتھ لائے۔اُس وقت نماز ہو رہی تھی۔ابوسفیان نے جب یہ نظارہ دیکھا کہ ہزاروں آدمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر کبھی کھڑے ہو جاتے ہیں، کبھی رکوع میں چلے جاتے ہیں اور کبھی سجدہ میں گر جاتے ہیں تو وہ گھبرا گیا اور کہنے لگا عباس! کیا میرے قتل کی کوئی سکیم بنائی گئی ہے؟ حضرت عباس نے فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے قتل کی کوئی سکیم نہیں۔یہ تو نماز ہو رہی ہے۔ابوسفیان نے کہا یہ نظارہ دیکھ کر میرا تو دل گھٹنے لگ گیا تھا۔میں نے سمجھا کہ شاید میرے قتل کی کوئی سکیم بنائی گئی ہے۔غرض اطاعت کا جو عظیم الشان مادہ مسلمانوں میں پایا جاتا تھا اس کا نمونہ قیصر و کسرای کے درباروں میں بھی نہیں ملتا تھا۔پس جو شخص اپنی مرضی سے کسی کی غلامی اختیار کرتا ہے اُس کو اس غلامی سے کوئی نکال نہیں سکتا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر سے یہ فرماتے کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں تو وہ آپ کو چھوڑ کر جاتے یا آپ حضرت عمرؓ کو آزاد کرتے تو وہ اس آزادی کو قبول کرتے؟ وہ تو یہ کہتے کہ ہمیں