خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 151

$1956 151 خطبات محمود جلد نمبر 37 باوجود اس کے کہ انہیں ہر قسم کی بڑائی حاصل تھی اُن میں حد درجہ کا انکسار پایا جاتا تھا اور غرور سے وہ کوسوں دور رہتے تھے۔حضرت خالد بن ولید کو ہی دیکھ لو۔انہوں نے چند آدمیوں کے ساتھ رومی حکومت سے ٹکر لے لی تھی حالانکہ اُس وقت کی رومی سلطنت اس وقت کی ہندوستانی حکومت سے بہت زیادہ طاقتور تھی اور خالد کے ساتھی خواہ اُس وقت کتنے بھی زیادہ ہوں بہر حال پاکستان کی طاقت سے کم طاقت رکھتے تھے۔لیکن انہوں نے رومی حکومت سے ٹکر لی اور پھر اس جنگ میں حاصل کی۔اسی خالد کو بعض وجوہات کی بناء پر حضرت عمرؓ نے کمانڈر انچیف کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ان کی برطرفی کا آرڈر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے ذریعہ بھیجا گیا تھا اور اُنہی کو آپ کا قائم مقام مقرر کیا گیا تھا۔حضرت ابوعبیدہ نے حضرت خالد کے ماتحت کام کیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ اسلامی فتوحات میں ان کا بہت بڑا دخل ہے۔انہیں خیال گزرا کہ شاید خالد کو برطرفی کا حکم بُرا لگے اس لیے انہوں نے فوری طور پر اس کا اعلان نہ کیا لیکن بعض لوگوں کو اس کا پتا لگ گیا اور انہوں نے خالد کو بھی بتا دیا۔یہ سن کر خالد حضرت ابو عبیدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری برطرفی کے احکام آچکے ہیں لیکن آپ نے مجھے نہیں بتایا۔جس دن آپ کے پاس میری برطرفی کے احکام آئے تھے آپ کو چاہیے تھا کہ اُسی دن مجھے اطلاع دے دیتے تا کہ میں فوری طور پر خلیفہ وقت کے احکام کی تعمیل کر دیتا۔یہ میرا استعفی ہے۔اسے حضرت عمر کے پاس بھجوا دیں اور فوج کا کام سنبھال لیں۔حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا میں حضرت عمرؓ کو بھی لکھوں گا مگر آپ سے بھی کہتا ہوں کہ میں سپہ سالاری کا عہدہ اُس وقت قبول کروں گا جب آپ وعدہ کریں کہ آپ حسب سابق میر۔ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔حضرت خالد نے کہا میں آپ کی ایک سپاہی سے بھی بڑھ کر اطاعت کروں گا۔میں نے جو خدمت کی ہے وہ کسی مرتبہ اور عزت کے لیے نہیں کی بلکہ میری ساری خدمت خدا تعالیٰ کی خاطر تھی۔تو دیکھو خالد کی بڑائی انتہا کو پہنچ چکی تھی لیکن پھر بھی ان میں کس قدر انکسار پایا جاتا تھا۔لیکن آج کل ایک وزیر کسی وجہ سے وزارت سے ہلتا ہے تو وہ اپنی علیحدہ پارٹی بنا لیتا ہے۔پس تم دعائیں کرو کہ آزادی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ایسی