خطبات محمود (جلد 37) — Page 146
$1956 146 خطبات محمود جلد نمبر 37 مومنانہ جرات سے کام لیا ہے۔اگر ہم اس قسم کی شکایت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی کرنی شروع کر دیں تو قوم میں بزدلی پیدا ہو جائے گی۔پس قوم کو بزدلی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مومنانہ جرات سے کام لینے والوں کو تنگ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔دوسری بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کا دن حکومت پاکستان نے ملک کی کانسٹی ٹیوشن بننے پر خوشی منانے کے لیے مقرر کیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ خوشی کا دن ہے۔1947 ء میں میں نے جو لیکچر دیئے تھے اُن میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ مسلمان جو بھی آئین بنائیں وہ اسلامی ہی ہو گا۔آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک سچا مسلمان کوئی آئین بنائے اور وہ غیر اسلامی ہو۔مسلم کے معنے ہی فرمانبردار کے ہیں، مسلم کے معنے ہی خدا اور اُس کے رسول کے ماننے والے کے ہیں۔اور اگر کوئی شخص خدا اور اس کے رسول کو ماننے والا ہے اور سچے طور پر ان کا فرمانبردار ہے تو وہ ایسا قانون بنائے گا ہی کیوں جو غیر اسلامی ہو گا۔پس ایسی اسمبلی جو سچے مسلمانوں پر مشتمل ہو غیر اسلامی دستور بنا ہی نہیں سکتی۔ہماری کانسٹی ٹیوشن تو پہلے سے ہی قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کی توضیح و تشریح کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث موجود ہیں۔لیکن اس پر غیر مسلموں کو تسلی نہیں تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم میں کانسٹی ٹیوشن کے لیے پورا مصالحہ موجود نہیں۔دوسرے ہر قاضی اور ہر افسر قرآن کریم سے صحیح بات نہیں نکال سکتا۔اس لیے ضروری تھا کہ پورے طور پرغور کر کے قانون کو ایک معین شکل دے دی جاتی تا کہ جو لوگ قرآن کریم پر غور نہیں کر سکتے وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔پھر دوسرے ممالک کے مقابل پر بھی پاکستان کا آئین تیار ہونا نہایت ضروری تھا۔سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ قریباً نو سال میں ہمارا دستور تیار ہو گیا۔اگر دستور کے بننے میں مزید دیر ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ملک میں عام طور پر مایوسی پیدا ہو گئی تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ ہمارے لیڈر اس اہم مسئلہ پر بھی سر جوڑ کر بیٹھنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔سو آج جبکہ دستور بن کر قوم کے سامنے آ گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیڈروں کو پبلک کے عائد کردہ الزامات سے بچا لیا ہے۔باقی جو لوگ اس آئین پر اعتراضات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں