خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 147

خطبات محمود جلد نمبر 37 147 $1956 فلاں غلطی ہے، فلاں نقص ہے۔انہیں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دستور بہر حال انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور انسانوں کے بنائے ہوئے دستور میں غلطیوں کا احتمال ہو سکتا ہے۔اس لیے اگر دستور میں کوئی غلطیاں رہ بھی گئی ہوں تو ان کی بعد میں اصلاح ہوتی رہے گی۔ہمیں ان چند غلطیوں کی وجہ سے سارے دستور پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔قرآن کریم ہمارے سامنے ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث ہمارے پاس موجود ہیں۔اگر کسی معاملہ میں ہمیں محسوس ہو کہ ہم نے اس بارہ میں صحیح قدم نہیں اُٹھایا تو اسے ہر وقت بدلا جا سکتا ہے۔حضرت علی کو دیکھ لو آپ فرماتے تھے کہ جب مسح کے احکام نازل ہوئے تو میں تر قد میں پڑ گیا۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے پاؤں کے اوپر مسح کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ مٹی تو پاؤں کے نچلے حصہ کو لگتی ہے لیکن پھر میں نے سمجھا کہ جب خدا تعالیٰ نے اوپر مسح کرنے کا حکم دیا ہے تو یہی درست ہے میرا خیال درست نہیں۔2 پس خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انسانی عقل کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ بڑے بڑے برگزیدہ لوگوں کی عقلیں بھی اس کے سامنے بیچ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے۔آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے کہ ہر وقت یہی دعا کیا کرو کہ اے اللہ! میرے علم کو بڑھا۔3 گویا ایک ایسا شخص جو علم کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا، جسے فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن او ادنی 4 کا مقام حاصل تھا، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اسے وہ علم دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔اسے بھی ربِ زِدْنِي عِلْمًا کی دعا سکھائی گئی۔پس خدا خدا ہی ہے اور بندہ بندہ ہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باوجود اس کے کہ افضل الرسل اور خاتم النبین تھے پھر بھی علم حاصل کرنے کے محتاج تھے۔اگر آپ علم حاصل کرنے کے محتاج نہ ہوتے تو خدا تعالیٰ آپ پر قرآن کریم کیوں نازل کرتا؟ یہی فرما دیتا کہ تم خود ہی غور کر کے انسانوں کے لیے ایک لائحہ عمل بنا دو۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ خود قرآن کریم نازل کیا اور بسم اللہ کی ”ب“ سے لے کر والناس کی ”س“ تک ایک مفصل کتاب نازل کر دی۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا انسان بھی یہ دعا کرتا رہتا تھا کہ الہی! میرا علم بڑھا۔تو پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن پر یہ شور مچانا کہ چونکہ اس میں وو