خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 145

خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ 145 $1956 چال چلن سے واقف ہو۔تمہارا فرض تھا کہ پہلے ذاتی طور پر تم تحقیقات کرتے اور اگر اس کے نتیجہ میں تمہیں نظر آتا کہ مقدمہ جائز طور پر دائر کیا گیا ہے تو میرے نام سمن جاری کرتے۔ور نہ اس کو رڈ کر دیتے۔اس پر قاضی نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور امام ابن تیمیہ اپنے گھر آگئے۔اس طالبعلم نے جو شکایت کی ہے اس کے متعلق مجھے ابتدائی تحقیقات سے پتالگا ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کو اطمینان ہے کہ اس کی رقم صحیح طور پر خرچ ہوئی ہے اور جب دینے والے کو اطمینان ہو تو دوسرے کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔مثلاً میں ایک شخص کو کچھ پیسے دوں کہ بازار سے مولیاں لاؤ اور وہ مولیاں خرید لائے تو اگر پاس ہی ایک اور شخص کھڑا ہو اور کہے کہ اس شخص نے آپ سے دھوکا کیا ہے، بازار میں گاجریں اچھی ملتی تھیں اسے گاجریں خریدنی چاہیے تھیں تو اُس کا اعتراض درست نہیں ہو گا۔کیونکہ مجھے مولیوں کی ضرورت تھی جو وہ خرید لایا ہے۔دوسرے شخص کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔اسی طرح اس معاملہ میں صدر انجمن احمدیہ کو تسلی ہے کہ اُس کے روپیہ کو ٹھیک طور پر خرچ کیا گیا ہے اس لیے شکایت کی جہ ختم ہو گئی۔لیکن پھر بھی میں نے ابھی آخری فیصلہ نہیں کیا بلکہ مزید تحقیقات کے لیے ایک افسر کو مقرر کیا ہے۔بہر حال میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ طالبعلم قابل تعریف ہے کیونکہ اس نے بزدلی نہیں دکھائی بلکہ جرات سے کام لے کر اپنا نام ظاہر کر دیا ہے۔بزدل آدمی کا اسلام میں کوئی مقام نہیں۔اس نے دلیری اور مومنانہ جرات سے کام لیتے ہوئے شکایت کی ہے۔اگر یہ شکایت غلط ثابت ہوئی تو وہ قابل سزا نہیں ہو گا۔بلکہ ہم اسے سمجھا دیں گے کہ تمہاری شکایت درست نہیں۔ہاں! اگر وہ شکایت کرتا اور اپنا نام ظاہر نہ کرتا تو وہ بزدل تھا اور اگر اس کا پتا لگ جاتا تو ہم اُسے ضرور سزا دیتے۔لیکن اب اگر اس کی شکایت غلط ثابت ہوئی تو ہم سمجھیں گے وہ مومن ہے۔اس نے جان بوجھ کر غلط شکایت نہیں کی بلکہ کسی وجہ سے اسے دھوکا لگ گیا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق مومنانہ جرات دکھاتے ہوئے شکایت کی اس لیے وہ اس پوزیشن میں ہے کہ اُس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا جائے بلکہ شکایت غلط ثابت ہو تو اسے سمجھا دیا جائے کہ اس کی شکایت درست نہیں تھی۔میں اپنے طریق کے مطابق یہ دیکھتا رہوں گا کہ کوئی افسر اس طالبعلم کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں کرتا کیونکہ اس نے ہے۔