خطبات محمود (جلد 37) — Page 122
$1956 122 خطبات محمود جلد نمبر 37 پہنچا تبلیغ کے لیے باہر جاتے اور وہ بھی اس قسم کی خوشی کا دن دیکھتے۔اسی طرح دوسری جماعتوں کو بھی اس کام میں حصہ لینا چاہیے۔مثلاً لاہور، شیخو پورہ، لائکپور یا کسی دوسرے اسٹیشن پر گاڑی پہنچے تو وہاں کی جماعتیں الوداع یا خوش آمدید کہنے کے لیے بڑی بھاری تعداد میں اسٹیشن پر بیا کریں بلکہ جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ایسے موقعوں پر اپنے غیر احمدی دوستوں کو بھی ساتھ لایا کریں کیونکہ اس طرح بھی انہیں تبلیغ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر جماعت واقفین کی قدر نہیں کرتی تو اس میں ایک حد تک نقص واقفین زندگی کا بھی ہے۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ سارے کام صرف مسائل دینیہ سیکھ لینے سے ہی نہیں ہوتے بلکہ انہیں اپنے اندر کچھ نہ کچھ انتظامی قابلیت بھی پیدا کرنی چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو۔جب آپ کسی صحابی کو کسی کام کے لیے مقرر فرماتے تھے تو آپ اُس کی انتظامی قابلیت کو بھی دیکھتے تھے۔پ کے پاس بڑے بڑے عالم صحابہ بھی ہوتے لیکن آپ اُس عہدہ پر اسی شخص کو مقرر فرماتے چاہے علمی قابلیت کے لحاظ سے دوسروں سے کم ہی ہو لیکن اس میں انتظامی قابلیت پائی جاتی ہو۔ہمارے مبلغین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اندر انتظامی قابلیت پیدا کریں تا انہیں ضرورت کے وقت اُن کاموں پر بھی لگایا جا سکے۔سلسلہ کو صرف مبلغین کی ہی ضرورت نہیں ہ ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو انتظامی کام سنبھال سکیں۔مثلاً اس وقت نو کے قریب ناظر ہیں، نو کے قریب وکیل ہیں اور اٹھارہ کے قریب نائب ناظر اور نائب وکیل ہیں۔چھتیں تو یہی بن گئے۔اگر انتظامی قابلیت رکھنے والے لوگ ہمیں میسر نہ آئیں تو اس تعداد کو کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔لیکن اگر واقفین علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر انتظامی قابلیت بھی پیدا کریں، غیر ملکی زبانیں سیکھیں، ان میں مختلف مضامین پر لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کریں اور اچھی اور مفید باتوں کو اخذ کرنے کی کوشش کریں تو مرکز کے انتظامی عہدوں پر بھی انہیں لگایا ہے۔عیسائیوں کو دیکھ لو اُن میں اکثر انتظامی عہدے پادریوں کے ہی سپرد ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اُن کی تعلیم کا معیار بھی وہی ہوتا ہے جو انتظامی محکموں میں