خطبات محمود (جلد 37) — Page 121
$1956 121 خطبات محمود جلد نمبر 37 باہر گئی تو میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا۔میں نے کہا میں بیمار ہوں۔تمہارے رونے کی وجہ سے میرا دل گھبراتا ہے۔اس لیے تم خود ہی کچھ کرو اور اپنے والد کو کسی نہ کسی طرح راضی کر لو۔بعد میں میں نے پھر مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا اور انہوں نے کوشش کر کے سمجھوتا کرا دیا۔دیکھو! وقف زندگی ایک جہاد ہے اور جہاد کا عورتوں کو براہِ راست حکم نہیں۔واقف زندگی نوجوانوں کو غیر ممالک میں جانا پڑتا ہے اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں۔اس لیے اس قسم کی قربانی کا انہیں براہِ راست حکم نہیں۔لیکن جب لڑکیوں میں دین کی خدمت کا جوش پیدا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُن کے لیے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے۔پس ضروری ہے کہ ماں باپ بچپن سے ہی اپنی اولاد کے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کر دیں کہ انہوں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے۔اور پھر اگر اپنے بچوں کو وقف کرنے کا عہد کریں تو اُن لوگوں کی طرح نہ بنیں جو شروع شروع میں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سب بچے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیئے ہیں لیکن جب عملی طور پر وقف کا سوال پیدا ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کبھی انہوں نے وقف کا نام ہی نہیں لیا تھا۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے احباب کو توجہ دلائی جائے کہ و واقفین زندگی کی قدر کیا کریں اور یہ سمجھیں کہ دین کا خادم ہونا نہایت اعلیٰ اور قابلِ قدر مقام ہے اور اس کی جتنی بھی عزت کی جائے کم ہے۔میرے نزدیک یہ ایک نہایت ضروری امر ہے وہ اور جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔اس غرض کے لیے جماعت میں طریق جاری کیا گیا ہے کہ جو واقف زندگی تبلیغ کے لیے باہر جاتا ہے یا ایک وقت تک کام کرنے کے بعد واپس آتا ہے اُسے الوداع یا خوش آمدید کہنے کے لیے کثرت سے لوگ اسٹیشن پر جاتے ہیں اور اُس کا اعزاز کرتے ہیں۔لیکن اس طرف بھی پوری توجہ نہیں۔میرے نزدیک واقفین زندگی کے اعزاز کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ باہر جائیں تو ہزاروں کی تعداد میں جماعت کے دوست انہیں الوداع کہنے جائیں اور جب وہ واپس آئیں تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ انہیں خوش آمدید کہنے جائیں۔ایک طرف مردوں کا ہجوم ہو اور دوسری طرف عورتیں گروہ در گروہ کھڑی ہوں تا کہ دوسروں کو بھی خیال آئے کہ کاش! ان کے بچے بھی