خطبات محمود (جلد 36) — Page 56
$1955 56 خطبات محمود جلد نمبر 36 سمند رطے کرنا ہو اور اُس کی گردن پر بوجھ ہو تو اُس بوجھ کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جاسکتا۔نجات اُس بوجھ کو اتارنے میں ہی ہوتی ہے۔اگر کسی بڑے سمندر کو طے کرنا ہو یا کسی بڑے دریا کے پاٹ میں سے گزرنا ہو اور پتھر گلے کے ساتھ بندھا ہوا ہو تو وہ شخص احمق ہوگا جو اُس پتھر کو اتارے نہیں۔جو اُس پتھر کو نہیں اُتارے گا وہ سمندر کو طے کرتے ہوئے ڈوب جائے گا۔اس لیے میں جماعت کو آخری دفعہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اب ایسا قدم اٹھائے جس سے پہلی شرمندگی دور ہو سکے۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں اس بات کے بیان کرنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا کہ اس بارہ میں مرکزی دفتر نے بھی غفلت سے کام لیا ہے۔میں ایک ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ کسی نہ کسی جگہ غلطی ہے۔کیونکہ جن لوگوں کے خطوط میرے پاس آرہے ہیں اُن میں سے 99 فیصدی نے یا تو وعدوں میں اضافہ کیا ہے یا کم سے کم پہلے سال جتنے وعدے کئے ہیں۔صرف چند جماعتیں ہیں جن سے اس بارہ میں بستی ہوئی ہے۔اب عقلمند کا یہ کام ہے کہ وہ بیماری تلاش کرے اور پھر اس کا علاج کرے۔میں نے مرکزی دفتر سے کہا کہ مجھے ایسی جماعتوں کی لسٹ بھجواؤ جنہوں نے وعدے بھجوانے میں سستی سے کام لیا ہے تا اُن پر زور دیا جا سکے۔یا تم اپنے انسپکٹروں کو بھجوا ؤ اور اُن سے کہو کہ اگر وعدے بھیجوانے ہیں تو جلدی بھیجوا ؤ۔دفتر والوں نے کہا جی حضور ! اور پھر آٹھ دن گزر گئے۔پھر میں نے کہا مجھے ست جماعتوں کی لسٹ بھیجوا ؤ تو دفتر والوں نے کہا جی حضور ! اور پھر آٹھ دن گزر گئے۔اور ابھی تک ان کی طرف سے لسٹ نہیں آئی۔پھر میں نے اختر صاحب سے کہا کہ ان لوگوں سے سُست جماعتوں کی لسٹ بنواؤ اور مجھے بھجواؤ۔میں سمجھا تھا کہ وہ باہر سے آئے ہیں تو کام کریں گے لیکن انہوں نے بھی باتوں کی عادت ڈالی ہوئی ہے۔کام کرنے کا نام وہ بھی نہیں لیتے۔میں نے انہیں سمجھایا تھا کہ بعض لوگ کام کرتے وقت پچھلی تین پشتوں سے کام شروع کرتے ہیں اور اس طرح ان کے کاموں میں دیر ہو جاتی ہے۔مگر انہوں نے میری اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے یہ خیال کر لیا کہ تین پشتیں بھی تھوڑی ہیں۔اصل میں چھ پشتوں سے کام شروع کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ بھی کوئی کام نہیں کر رہے۔پھر میں نے وکلاء کو بلا کر کہا کہ تم وکیل المال سے روزانہ رپورٹ لیا کرو۔لیکن انہوں نے بھی اس کام کی طرف توجہ نہیں کی۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے دونوں فریق پر سختی کرنی پڑے گی۔