خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 57

$1955 57 خطبات محمود جلد نمبر 36 وکلاء کو بھی میں نے کہا کہ جماعت وارو عدے چیک کرو اور وکالت مال سے روزانہ رپورٹ لے کر مجھے بھجواؤ۔لیکن انہوں نے نہایت غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔میں نے انہیں طریق علاج بھی بتا دیا تھا لیکن انہوں نے میری ہدایت کے مطابق کام نہیں کیا۔اختر صاحب سے کہا کہ تم ان سے کام کراؤ اور انہیں کہو تم مرض کو پکڑو اور اس کا علاج کرو لیکن انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔حالانکہ یہ ایک معمولی بات ہے۔جماعتوں کے وعدوں کا جائزہ لینے سے فوراً معلوم ہو جا تا ہے کہ کس جماعت نے سنتی سے کام لیا ہے یا اُن کے وعدوں میں پچھلے سال کی نسبت کمی آئی ہے۔میرے پاس جن جماعتوں کے وعدے آئے ہیں اُن میں صرف ایک جماعت ایسی ہے جس کے اس سال کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں کی نسبت کم ہیں۔اور اس کی وجہ انہوں نے یہ لکھی ہے کہ ان کے کچھ آدمی تبدیل ہو کر دوسری جگہ چلے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کوئی ایسی جماعت نہیں جس کے وعدے پچھلے سال کی نسبت کم ہوں۔بلکہ انہوں نے پچھلے سال کی نسبت وعدے بڑھا کر پیش کئے ہیں۔اس سے صاف پتا لگتا ہے کہ دفتر نے مقابلہ کر کے دیکھا نہیں کہ کونسی جماعت نے وعدے بھجوانے میں سستی کی ہے۔جتنی جماعتوں نے اس وقت تک وعدے بھجوائے ہیں انہوں نے پچھلے سال کی نسبت وعدے بڑھا کر پیش کئے ہیں۔اس لئے لازماً جن جماعتوں کی طرف سے ابھی تک وعدوں کی لسٹ نہیں آئی اُن میں سے بعض کی طرف سے کوتا ہی ہوئی ہوگی۔پس بجائے اس کے کہ میرے پرانے خطبوں کے بعض حوالے نکال نکال کر الفضل میں شائع کئے جائیں اور اس طرح لوگوں پر یہ اثر ڈالا جائے کہ دوسری جماعتوں نے بھی وعدے بھجوانے میں سستی سے کام لیا ہے یہ ضروری تھا کہ جن جماعتوں کی طرف سے ابھی تک وعدے نہیں آئے اُن پر زور دیا جاتا۔پس یہ بات مشکل ہے کہ میں اس سستی کی ذمہ داری صرف جماعتوں پر ڈالوں۔مرکزی دفتر والوں نے بھی سستی اور غفلت سے کام لیا ہے۔پس ضروری ہے کہ میں جماعت پر بھی اور مرکزی دفتر والوں پر بھی سختی کروں۔یہ ایک تلخ گھونٹ ہے جو مجھے پینا پڑے گا۔لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں اس قسم کے تلخ گھونٹ پینے ہی پڑتے ہیں۔چاہے بعد میں یا ساتھ ہی میرے دل پر یہ بات گراں گزرے۔لیکن خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے کے لیے اس قسم کے تلخ گھونٹ پے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔لیکن اس سے قبل میں ایک دفعہ پھر جماعت کو