خطبات محمود (جلد 36) — Page 51
خطبات محمود جلد نمبر 36 51 $1955 پس جہاں میں جماعت کے افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قانون کی پابندی کریں اور ان کی دنوں زیادہ احتیاط سے کام لیں۔وہ اس بات سے ڈرتے رہیں کہ ان کی غفلت کے نتیجہ میں دشمن کو جماعت کے خلاف کسی اعتراض کا موقع نہ ملے وہاں میں حکومت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک کسی رپورٹ کے متعلق تحقیقات کا سوال ہے وہ بے شک کرے، وہ ملک میں قیام امن کی ذمہ دار ہے اور قیام امن کے لیے اُسے اس قسم کی کارروائی کرنی پڑتی ہے۔اگر وہ ایسی کارروائی نہ کرے تو وہ اپنے فرض کو ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اُن کے معلوم کرنے کے ذرائع بہت معمولی ہوتے ہیں۔مثلاً چوری وغیرہ کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔لیکن رائفل کا نشان ہوتا ہے۔پس اگر کہیں رائفل چلائی گئی ہو تو لازماً اس کے نشان بھی ہوں گے۔پھر علاقہ کے لوگ کہیں گے کہ ہمارے قریب راکفل ٹریننگ ہوتی ہے اور اس کی آواز سے شور پڑ جاتا ہے۔رات کو شور کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔راکفل چلانے والے دروازے بند کر کے اور لحافوں کے اندر بیٹھ کر تو رائفل نہیں چلائیں گے۔اگر وہ رائفل چلائیں گے تو لازماً رائفل کی آواز آئے گی۔اُس کے نشان پڑیں گے۔اس لئے اس قسم کا جھوٹ بولنے والے کو فوراً پکڑا جا سکتا ہے۔اور اگر کسی افسر کے متعلق پتا لگ جائے کہ اُس نے کسی جماعت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو اُسے سزاملنی چاہیے۔گزشتہ فسادات کے دوران میں ایک بڑے افسر نے ایک احمدی سے ذکر کیا کہ اُسے اپنے محکمہ کے متعلق جبکہ وہ چھٹی پر تھا اور یونہی دفتر میں آیا تھا معلوم ہوا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف صرف مولویوں کے بیانات پر کوئی قدم اٹھایا جا رہا ہے۔تو میں نے اس افسر کو جو میری جگہ لگا تھا سمجھایا کہ جن باتوں سے افراد کی ہتک ہوتی ہے جماعتوں کی زیادہ ہتک ہوتی ہے۔اس لیے محض مولویوں کے لیکچروں میں بیان کردہ باتوں پر اعتبار کر کے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔اور اس طرح اُس افسر کو غلط اقدام سے روک دیا۔اس روایت سے اگر وہ کچی ہے پتا لگتا ہے کہ جماعت کے خلاف افسرانِ بالا کے پاس غلط رپورٹیں بھی پہنچتی رہتی ہیں اور سمجھ دار افسران رپورٹوں کی صحیح طریق پر تحقیق ضروری سمجھتے ہیں۔پس حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ اس بارہ میں احتیاط سے کام لے۔ہمارا یا کسی اور کا یہ حق نہیں کہ ہم کہیں کہ چاہے ہم خلاف قانون حرکات کریں تو حکومت ہمیں پکڑے نہیں۔حکومت کا