خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 50

$1955 50 50 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہے۔لیکن تمہیں اس کا کوئی علم نہیں ہو سکتا۔پس تمہارے لئے ایک ہی رستہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ اے خدا! تو علام الغیوب ہے، تو نے ہمیں بنتیں دانتوں میں زبان کی طرح بنا کر رکھ دیا ہے، تو جانتا ہے کہ ہمارے متعلق کیا کیا جھوٹ بولے جاتے ہیں، ہم پر کیا کیا الزام لگائے جاتے ہیں، ہم پر کیا کیا افتراء کئے جاتے ہیں۔ہمیں پتا نہیں کہ ہمارے متعلق کون جھوٹ بولتا ہے کس کے پاس جھوٹ بولتا ہے اور کن الفاظ میں جھوٹ بولتا ہے۔تو علام الغیوب ہے تو سب کچھ جانتا ہے۔تو ان کی اصلاح کرتا کہ یہ لوگ ہم بے گنا ہوں اور مظلوموں پر اتہام نہ لگائیں۔پھر جہاں میں جماعت کے افراد سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ہوشیار رہیں اور یہ دن دعاؤں اور استغفار میں بسر کریں۔وہاں میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے لئے اگر ایک طرف یہ ضروری ہے کہ وہ کی قیام امن کے لیے ہر رپورٹ کی تحقیقات کرے تو دوسری طرف اُس کا یہ بھی فرض ہے کہ جب اُسے معلوم ہو جائے کہ کسی نے غلط رپورٹ کی ہے تو اُس کے خلاف کارروائی کرے۔مجھ سے کئی افسروں نے بیان کیا ہے کہ جب آپ کی جماعت کے خلاف کوئی رپورٹ کی جاتی ہے تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ رپورٹ جھوٹی اور تعصب کی بناء پر کی گئی ہے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔پس حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر کوئی رپورٹ غلط ثابت ہو تو رپورٹ کرنے والے کو سزا دے۔یہ ایک موٹی بات ہے کہ اگر رائفل ٹرینینگ جاری ہو تو وہ پہلے مرکز میں ہونی چاہیے اور رائفل ٹرینگ ایسی چیز نہیں جسے چھپایا جاسکے۔رائفل کی آواز کئی میل تک جاتی ہے۔اگر یہاں رائفلیں چلائی جائیں گی تو لازمی بات ہے کہ اس کے نتیجہ میں ایک شور برپا ہوگا اور وہ ہمسائیوں کو اور اردگرد کے دیہات میں بھی سنائی دے گا۔رائفل ٹریننگ کے یہ معنے ہیں کہ کئی لوگ ایک وقت میں رائفل چلانا سیکھیں اور اس صورت میں تو ایک شور پڑ جائے گا۔پس یہ کوئی ایسا امر نہیں کہ اس کا پتا لگانے میں کوئی وقت پیش آئے۔کسی آدمی سے بھی اس کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔محلہ کے لوگوں سے اردگرد کے دیہات سے اور علاقہ کے لوگوں سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ آیا انہوں نے رائفل کی کبھی آواز سنی ہے یا نہیں؟ اور پھر جب یہ پتا لگ جائے گا کہ رائفل چلانے کی آواز آتی رہی ہے تو ان سے جہت بھی معلوم ہو جائے گی۔پھر رائفل کی گولیوں کے نشان بھی مل جائیں گے۔اگر کسی پہاڑی پر راکفل چلائی گئی ہے تو پتھروں پر نشانات ہوں گے۔اگر کسی لکڑی پر نشانہ لگایا گیا ہے تو اُس پر نشان ہوگا۔