خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 52

خطبات محمود جلد نمبر 36 529 $1955 حق ہے کہ جب بھی کوئی خلاف قانون حرکت کرے اُسے پکڑے اور مناسب سزا دے۔اگر وہ ہمیں خلاف قانون حرکات کرنے کے باوجود گھلا چھوڑ دیتی ہے اور دوسروں کو پکڑ لیتی ہے تو دوسرے لوگ اس پر طرف داری کا الزام لگائیں گے۔اور اگر وہ دوسروں کو کھلا چھوڑ دیتی ہے اور ہمیں پکڑتی ہے تو ہم اس پر طرف داری کا الزام لگائیں گے۔کیونکہ یہ بات درست نہیں کہ رعایا کے ایک حصہ کو اپنا دوست قرار دے کر اُس سے رعایت کی جائے اور دوسرے کو دشمن قرار دیا جائے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس لیے جب تک حکومت اپنے فرض کو ادا کرتی ہے اُس پر الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ اگر وہ اپنے فرض کو ادا کرتی ہے تو وہ قابلِ شکریہ اور قابلِ داد ہے۔لیکن اُس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس بات میں احتیاط سے کام لے کہ کسی پر جھوٹا الزام نہ لگایا جائے۔ساتھ ہی میں اپنی جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ ہمارا مذہبی عقیدہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے اور قانون شکنی نہ کی جائے۔اس لیے ہم پر دو ہری ذمہ داری ہے۔اگر کوئی احمدی قانون شکنی کرتا ہے تو نہ وہ صرف گورنمنٹ کے نزدیک مجرم ہے بلکہ وہ سلسلہ کے نزدیک بھی مجرم ہے۔اگر گورنمنٹ کا یہ فرض ہے کہ قانون شکنی کی وجہ سے اُسے سزا دے تو سلسلہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اسے سزا دے۔گویا جماعت کے افراد پر دو نگران مقرر ہیں۔ا یک حکومت اور دوسرے سلسلہ۔اس لئے ان کی اصلاح کے مواقع زیادہ ہیں۔دوسرے کسی شخص کے متعلق ممکن ہے کہ حکومت خاموش رہے۔لیکن ہم خاموش نہیں رہیں گے۔اگر کوئی احمدی قانون شکنی کرے گا تو ہم اُسے ضرور سزا دیں گے۔مجھے یاد ہے حکومت انگریزی کے زمانہ میں ایک دفعہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری مرحوم نے حضرت بابا نانک یا کسی اور سکھ بزرگ کے متعلق اپنی ایک کتاب میں بعض سخت الفاظ لکھے۔اس پر سکھوں نے شور مچایا۔چنانچہ میں نے اعلان کر دیا کہ اُس وقت تک جماعت کا کوئی فرد یہ کتاب نہ خریدے جب تک کہ ماسٹر صاحب قابل اعتراض صفحات کی اصلاح کر کے کتاب شائع نہ کریں۔اس کے بعد اسمبلی میں بھی سکھوں نے شور مچایا تو اسمبلی کے ایک ممبر نے انہیں جو جواب دیا وہ جماعت احمدیہ کے لیے قابل فخر ہے۔اُس نے کہا تم گورنمنٹ سے کہہ رہے ہو کہ وہ کتاب ضبط کرے لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت کے نظام نے اس کتاب کے مصنف کو جو