خطبات محمود (جلد 36) — Page 227
خطبات محمود جلد نمبر 36 227 $1955 اور اگر ہمارے مخالفین اپنے اس قول میں بچے ہیں کہ ہم قرآن کریم پر حضرت مرزا صاحب کی وحی کو مقدم سمجھتے ہیں تب بھی یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم العین نہ مانیں کیونکہ حضرت مرزا صاحب کے الہامات میں آپ کو خاتم النبین کہا گیا ہے۔غرض اگر ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین یقین نہ کریں تو ہم نہ صرف قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی بھی تکذیب کرتے ہیں۔گویا اگر ہم اپنے قول میں بچے ہیں تب بھی ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں اور اگر معترضین کا اعتراض درست ہے تب بھی ہم آپ کو خاتم النبین مانتے ہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی میں بھی رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے۔غرض چاہے ہم کو سچا قرار دیا جائے یا معترضین کو اُن کے قول میں سچا سمجھ لیا جائے دونوں صورتوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں۔ہمارے سچا ہونے کی صورت میں قرآن کریم میں آپ کو خاتم النبین کہا گیا ہے جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔اور مخالفین کے سچا ہونے کی صورت میں مرزا صاحب کے الہامات میں بھی آپ کو خاتم النبین کہا گیا ہے جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔پھر دوسرے لوگوں کو تو بھاگنے کی کوئی گنجائش بھی مل سکتی ہے۔جیسے بہائی بھی رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی تو نہیں آئے گا ہاں خدا آ جائے گا۔چنانچہ اسی وجہ سے وہ بہاء اللہ کی الوہیت کے قائل ہیں۔لیکن ہم تو کوئی اور راہ اختیار ہی نہیں کر سکتے۔اگر ہم رسول کریم کو خاتم النبین یقین نہیں کرتے تو ہم قرآن کریم کا بھی انکار کرتے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے الہامات کا بھی انکار کرتے ہیں۔پس یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کوئی ایماندار احمدی یہ گمان تک نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ خاتم النبین نہیں تھے۔اگر ہم قرآن کریم کی طرف جاتے ہیں تو اس میں بھی آپ کو خاتم النبین کہا گیا ہے اور اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہامات کی طرف جاتے ہیں تو اُن میں بھی آپ کو خاتم القبین کہا گیا ہے۔پھر اگر ہم آپ کی تحریروں کو دیکھتے ہیں تو اُن میں بھی بار بار آپ کو خاتم التمہین کہا گیا ہے۔پھر کوئی سچا احمدی آپ کے خاتم النبین ہونے میں کس طرح شبہ کر سکتا