خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 228

$1955 228 خطبات محمود جلد نمبر 36 صلى الله ہے۔جدھر بھی کوئی جائے اُسے یہی آواز آئے گی کہ محمد رسول الله له خاتم النبین ہیں۔قرآن کریم سے بھی یہی آواز آتی ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے الہامات اور تحریروں سے بھی یہی آواز آتی ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں۔پس ایک احمدی کے لیے آپ کو خاتم النبین ماننے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں۔سوائے اس کے کہ وہ خود اپنی قبر کھود کر اپنی روحانی موت کا اعلان کر دے۔ورنہ اسے اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں آپ کو خاتم النبین ماننا پڑے گا۔کیونکہ قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات دونوں آپ کو خاتم النبین قرار دیتے ہیں۔اور وہ قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہوئے بھی آپ کے خاتم النبین ہونے سے انکار نہیں کر سکتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر ایمان رکھتے ہوئے بھی آپ کے خاتم النبین ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔میں اس موقع پر جماعت کے دوستوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے گو معترض ہم پر غلط اعتراض کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین نہیں سمجھتے۔ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین قرار دیتا ہے۔ہم حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو سچا سمجھتے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے الہامات بھی محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم القین قرار دیتے ہیں۔لیکن ممکن ہے پچاس ساٹھ یا سو سال کے بعد کوئی بیوقوف احمدی ایسا پیدا ہو جو رسول کریم ﷺ کے اس بلند مقام کے بارہ میں کسی وسوسہ میں مبتلا ہو جائے۔ایسے لوگوں کے وساوس کو دور کرنا بھی ہماری جماعت کا کام ہے۔پس جماعت کے دوستوں کو یہ بات صرف غیر احمدی علماء پر ہی نہیں چھوڑنی چاہیے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو لوگوں کے قلوب میں راسخ کریں۔بلکہ ہمارے علماء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس مسئلہ کو اس طرح بار بار جماعت کے سامنے لائیں کہ تین سال سے لے کر 103 سال کی عمر تک کے لوگ سب کے سب اس عقیدہ میں پختہ ہوں کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبین ہیں تا کہ ایک ہزار سال کے بعد بھی کوئی احمدی اس قسم کے وسوسہ میں مبتلا نہ ہو کہ آپ نَعُوذُ بِاللهِ خاتم النبین نہیں۔پس اس مسئلہ کو جماعت میں راسخ کرو۔کیونکہ یہ ہمارے مذہب کی جان ہے۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم کسی آیت قرآنیہ کے کوئی نئے معنے نہ کرو۔تم بے شک اُس کے