خطبات محمود (جلد 36) — Page 142
$1955 142 خطبات محمود جلد نمبر 36 سمجھتا تھا۔میں تقریر کرتا تو وہ فوراً نیچے کمرہ میں اُس کے پاس پہنچتی اور وہ اُسی وقت اُس تقریر کا جرمن زبان میں ترجمہ کرتا۔اور ایک اور مائیکروفون پر جو اُس نے اپنے سامنے رکھا ہوا تھا وہ ترجمہ سنتا چلا جاتا۔آگے تمام جرمن لوگوں نے جو میری تقریر سننے کے لیے اوپر کے ہال میں جمع تھے اپنے اپنے کانوں کے ساتھ ایک ایک آلہ لگایا ہوا تھا۔جونہی وہ ترجمہ کرتا اُسی وقت ہر شخص کے کان تک وہ ترجمہ پہنچ جاتا اور اس طرح پر ہر شخص ہال میں بیٹھے ہوئے اپنی زبان میں بھی میری تقریر سنتا چلا جاتا۔پہلے مجھے اس کا علم نہیں تھا کہ ہر شخص نے اپنے کان کے ساتھ کوئی آلہ لگایا ہوا ہے اور وہ جرمن زبان میں میری تقریر کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ سنتے جارہے ہیں۔لیکن ان کے چہروں کی بشاشت اور خوشی سے اور اُن کے سر ہلانے سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ تقریر سمجھ رہے ہیں اور اپنی بشاشت سے اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔میں حیران ہوا کہ یہ میری تقریر کس طرح سمجھ رہے ہیں؟ آخر پتا لگا کہ میری انگریزی تقریر کا جو شخص جرمن زبان میں ترجمہ کر رہا ہے وہ ساتھ کے ساتھ مائیکروفون پر وہ ترجمہ سناتا جا رہا ہے۔اور اوپر کے کمرہ میں بیٹھے ہوئے لوگ اُن کی آلات کے ذریعہ جو انہوں نے اپنے کانوں سے لگائے ہوئے ہیں اس تقریر کو سنتے جا رہے ہیں۔بعد میں ان لوگوں نے اعتراضات بھی کئے۔مگر خدا تعالیٰ نے مجھے اُن کے جواب سمجھا دیے جس سے اُن کی تسلی ہوگئی۔ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ آپ نے جو اسلام کی باتیں بتائی ہیں یہ وہی ہیں جو عیسائیت اور یہودیت پیش کرتی ہے۔پھر یہ کیا جھگڑا نظر آتا ہے کہ مسلمان عیسائیوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اور عیسائی مسلمانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔یہود عیسائیوں اور مسلمانوں کو بُرا سمجھتے ہیں اور عیسائی اور مسلمان یہودیوں کو بُرا سمجھتے ہیں۔گویا دنیا نہ موسیٰ کے خدا کو مانتی ہے ، نہ عیسی کے خدا کو مانتی ہے اور نہ محمد رسول اللہ اللہ کے خدا کو مانتی ہے۔ایسی صورت میں ان جھگڑوں کے تصفیہ کے لیے سب مل کر یہ کیوں نہیں طے کر لیتے کہ سب لوگ ایک خدا کو مانیں ، اس کی سچے دل سے عبادت کریں اور اپنے اپنے مذہب پر قائم رہیں؟ میں نے کہا مجھے سوال سن کر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کو آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے ان جھگڑوں کے تصفیہ کا یہی طریق بتایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةِ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا 3 یعنی اے اہل کتاب