خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 141

$1955 141 خطبات محمود جلد نمبر 36 خراب ہو گئے۔اس طرح اگر ہمارے نمائندے اور ہمارے قائم مقام ان ممالک میں موجود ہوں، پھر یہ کام صرف انہی تک محدود نہ ہو بلکہ ان کی آئندہ نسل بھی اس کام میں مشغول رہے تو سینکڑوں سال تک دنیا اسلام کے نور سے مستفیض ہوتی رہے گی۔پس وقف کی تحریک اسلام کی اشاعت کے لیے ایک عظیم الشان تحریک ہے۔اگر وقف کی تحریک مضبوط ہو جائے اور نسلاً بعد نسل ہماری جماعت کے نوجوان خدمت دین کے لیے آگے بڑھتے رہیں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں سال تک تبلیغ اسلام کا سلسلہ قائم رہ سکتا ہے۔اس غرض کے لیے میں نے متواتر جماعت پر وقف کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔مگر اب میرا ارادہ ہے کہ جماعت سے خاندانی طور پر وقف اولاد کا مطالبہ کروں۔یعنی ہر خاندان کے افراد اپنی طرف سے ایک ایک نوجوان کو اسلام کی خدمت کے لیے پیش کرتے ہوئے عہد کریں کہ ہم ہمیشہ اپنے خاندان میں سے کوئی نہ کوئی فرد دین کی خدمت کے لیے وقف رکھیں گے اور اس میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔جب خاندانی وقف کی تحریک مضبوط ہو جائے تو پھر اس کو وسیع کر کے ہم وقف کرنے والوں کو تحریک کرسکیں گے کہ وہ اپنے اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں سے ایک ایک ، دو دو، تین تین ، چار چار کو وقف کرنے کی کوشش کریں۔اس طرح یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ممتد ہوتا چلا جائے گا اور قیامت تک جاری رہے گا۔جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ بھی کہا تھا اب فصل تیار ہے صرف اس کے کاٹنے والوں کی ضرورت ہے اور یہ مبالغہ نہیں واقعہ ہے کہ مغربی لوگوں میں اسلام کی طرف زبر دست میلان پایا جاتا ہے۔میں تو بیمار تھا اور لمبی بات نہیں کر سکتا تھا مگر میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی میں گفتگو کرتا یورپین لوگ فوراً ہتھیار ڈال دیتے تھے اور وہ سمجھ جاتے تھے کہ حقیقت کیا ہے۔واپسی پر جب میں زیورچ پہنچا تو ایک ایڈلٹ (ADULT) سکول میں میری تقریر ہوئی۔وہ ایک جرمن نے اپنے ذاتی شوق کے ماتحت بڑے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے قائم کیا ہوا ہے۔میری تجویز یہ تھی کہ میں اردو میں تقریر کروں اور پھر اُس کا انگریزی میں ترجمہ ہو جائے۔مگر اُس نے کہا میری خواہش یہ ہے کہ آپ انگریزی میں ہی تقریر کریں میں اُس کا جرمن زبان میں ترجمہ کر والوں گا۔اس کے لیے اُس نے نچلی منزل کے ایک کمرہ میں مائیکروفون پر ایک جرمن بٹھا رکھا تھا جو انگریزی کو خوب