خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 143

$1955 143 خطبات محمود جلد نمبر 36 آؤ میں تمہیں ایک کلمہ پر جمع ہونے کا طریق بتاؤں جو تمہارے نزدیک بھی مسلّمہ ہے۔اور ہمارے نزدیک بھی مسلمہ ہے وہ طریق یہ ہے کہ ہم سب ایک خدا کی عبادت کریں اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیں۔تیرہ سو سال ہوئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ علاج بتایا تھا اور تمام اہل کتاب کو اس اصل کی طرف توجہ دلائی تھی۔مگر تمہارے باپ دادا نے قرآن کریم کی اس دعوت کو قبول نہ کیا۔پس بجائے ہم سے سوال کرنے کے تم اپنے باپ دادا پر شکوہ کرو اور انہیں کہو کہ جب محمد رسول اللہ اللہ نے اتنی اچھی تعلیم پیش کی تھی تو تم نے اسے قبول کیوں نہ کیا اور اپنا منہ کیوں پھیر لیا ؟ بہر حال اس اتحاد کے نہ ہونے کا الزام اگر آتا ہے تو تمہارے باپ دادا پر آتا ہے ورنہ تیرہ سو سال سے قرآن کریم میں یہ بات موجود ہے۔اب اگر تمہیں کوئی شکوہ ہے تو اپنے باپ دادا سے شکوہ ہونا چاہیے ہم سے نہیں ہونا چاہیے۔غرض ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ جائیں اور انہیں اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لیے تبلیغ کا اس قدر رستہ کھلا ہے کہ بعض دفعہ تو حیرت آتی ہے کہ ہم یورپ کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور وہ اسلام کی طرف اتنا مائل ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر انگریز کے اندر یہ تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ تم کسی انگریز یا امریکن کو ملو اور وہ اسلام کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دے۔کیونکہ دو ارب کی دنیا میں نوے کروڑ عیسائی ہیں اور میں صرف درجنوں سے ملا ہوں۔پس ان میں دشمن بھی ہو سکتے ہیں۔مگر جو لوگ مجھے ملے ہیں وہ بھی کل تک اسلام کے دشمن تھے مگر اب اُن کے اندر تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔اس تبدیلی کو وسیع کرنا اور اس تبدیلی سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانا اب ہمارا کام ہے۔ڈسمنڈشا مجھے انگلستان میں ملا تو کہنے لگا کہ میں جب کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ نے سب سے زیادہ امن کی تعلیم دینے والے نبی ہیں تو پادری میری بات نہیں مانتے۔میں نے کہا آپ کہتے جائیے ایک دن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔اس وقت وہ صرف ضد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں اور ضد ایسی چیز ہے جو انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔میں نے کہا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہم نے ہی یورپ میں پھیلائی ہے اور ہمیں ہی مسلمان کا فر اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔پادری تو ایک دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اُن کا