خطبات محمود (جلد 36) — Page 140
$1955 140 خطبات محمود جلد نمبر 36 اسلام میری سمجھ میں آجائے تو میں دنیا کے لیے مفید وجود کس طرح بن سکتا ہوں ؟ آیا اس طرح کہ اکثریت کے ساتھ شامل ہو جاؤں یا اس طرح کہ اقلیت کے ساتھ مل جاؤں ؟ اگر میں چھوٹی جماعت میں مل جاؤں تو میں کیا کام کر سکتا ہوں میں تو اسی صورت میں مفید کام کر سکتا ہوں جب میں بڑی جماعت میں ہوں۔بات اُس کی معقول تھی اور اُس کا مطلب یہ تھا کہ احمدی بننے سے مجھے کیا فائدہ ہوگا۔جبکہ احمدی بننے سے ماریں کھانی پڑتی ہیں، لوگوں کی گالیاں سنی پڑتی ہیں۔میں نے کہا مسٹر سٹوڈ ر! ایک بات آپ نے نہیں سوچی اور وہ یہ کہ اکثریت کی موجودگی میں اقلیت کی ضرورت کیا تھی ؟ اگر اقلیت کی ضرورت تھی اور اگر اقلیت کے پاس کوئی اچھی چیز ہے تو پھر اس میں شامل ہونا چاہیے۔اور اگر اُس کے پاس کوئی اچھی چیز نہیں تو آپ دوسروں سے مل کر اقلیت کو ختم کر دیں۔آخر اُس نے جھگڑا کیوں ڈالا ہے اور کیوں وہ اکثریت کے مقابلہ میں کھڑی ہے؟ اور اگر اقلیت میں واقع میں کوئی اچھی بات ہے تو بتاؤ کہ اکثریت میں مل کر اچھی بات کو ختم کر دینا اچھا ہے یا اچھی بات کو قائم رکھنے کے لیے اقلیت کے ساتھ مل کر کام کرنا اچھا ہے ؟ اگر اس کے پاس کوئی اچھی بات نہیں تو اُسے ختم کر دینا چاہیے۔اور اگر اُس کے پاس کوئی اچھی بات ہے تو اسے قائم رکھنا چاہیے تا کہ دنیا نیکی سے محروم نہ ہو۔غرض یورپ کے لوگ اب اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیں۔لیکن بڑی چیز جو اُن کے رستہ میں حائل ہے وہ یہی ہے کہ یورپین لوگ ہر چیز کو سیاسی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اُن کے بڑے بڑے لوگ یہ خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام اگر ہم تک پہنچا ہے تو احمدیوں کے ذریعے سے۔لیکن مسلمان جن کی اکثریت ہے وہ احمدیوں کے ہی مخالف ہیں۔ایسی صورت میں اقلیت کے ساتھ ملنا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ہاں اگر اکثریت کے ساتھ ملیں گے تو مفید کام کرسکیں گے۔اس قسم کے وساوس کا بھی ازالہ ہو سکتا ہے جب ہمارے مبلغ اُن تک پہنچیں اور اُن کے شبہات کو دور کریں۔یہ ظاہر ہے کہ ایک آدھ دفعہ ملنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس کے لیے متواتر اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔آخر رسول کریم ﷺ سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے مگر آپ نے بھی سالہا سال تبلیغ کی اور پھر آپ کے صحابہ نے تبلیغ کی تب جا کر لاکھوں لوگ اسلام میں شامل ہوئے۔مگر کچھ عرصہ کے بعد جب انہوں نے اسلام کی اشاعت کی طرف سے توجہ ہٹا لی تو وہی لاکھوں