خطبات محمود (جلد 36) — Page 139
خطبات محمود جلد نمبر 36 139 $1955 میں تو کسی پادری سے جب اسلام کے خلاف اسی مسئلہ پر اعتراضات سنتی ہوں تو میں اُس پادری کا گلا پکڑ لیتی ہوں اور میں اُسے کہتی ہوں کہ ایک سے زیادہ بیویاں عورتوں پر آئیں گی یا مردوں پر آئیں گی؟ اس مسئلہ سے اگر ڈر آنا چاہیے تو مجھے آنا چاہیے۔مگر مجھے تو کوئی ڈر نہیں آتا۔کیونکہ اسلام صرف یہی نہیں کہتا کہ زیادہ شادیاں کرو بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر ایک بیوی کے ساتھ انصاف کرو۔انہیں ایک جیسا مکان اور ایک جیسا کپڑا دو۔ایک جیسا کھانا دو اور ایک جیسا سلوک کرو۔جب اسلام یہ کہتا ہے تو اس پر تجھے کیا اعتراض ہے۔آخر تجھ پر تو سوکن نہیں آنی؟ سوکن تو مجھ پر آنی ہے۔پھر وہ ہنسی اور کہنے لگی۔ایک مرد کے اپنی بیوی سے کتنے بھی اچھے تعلقات ہوں کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں اور وہ سارا دن ایک دوسرے سے نہیں بولتے۔ایسی صورت میں اُس عورت کو چوبیس گھنٹے اُس کی شکل دیکھنی پڑتی ہے۔اگر چار بیویاں ہوں اور برابر کا ہر ایک کے پاس مکان ہو، برابر کا کھانا ہو، برابر کا پہننا ہو تو اگر وہ مجھ سے لڑے گا تو میں دوسری بیوی کے مکان کا دروازہ کھول کر اُس کے گھر میں اسے دھکیل دوں گی۔اور کہوں گی کہ دو گھنٹے تک میں نے تیرا منہ دیکھا ہے اب تو دوسرے گھر میں جا کہ وہ تیرا منہ دیکھے۔میں تیرا منہ کیوں دیکھتی رہوں۔اب دیکھو اس کی طبیعت میں یہ بات کیوں پیدا ہوئی ؟ اس لیے کہ اس نے مسلمانوں سے باتیں سنیں اور اس پر اثر ہوا۔یہاں کی عورتیں سوکن کا نام سن کر جل جاتی ہیں۔لیکن وہ ہالینڈ میں بیٹھی ہوئی کہتی ہے کہ یہ تو بڑے مزے کی تعلیم ہے۔اگر کبھی خاوند کا منہ بگڑا ہوا ہو گا تو میں اسے دوسرے گھر میں دھکیل دوں گی۔اور اس کی شکل نہیں دیکھوں گی۔تو دلیل ہمیشہ سمجھانے سے سمجھ آتی ہے۔اس کے بغیر نہیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے چونکہ قرآن کریم کے تراجم یورپ میں شائع ہو چکے ہیں اس لیے لوگ جب ان کو پڑھتے ہیں تو بڑے متاثر ہوتے ہیں۔ہمارا ڈرائیور ایک جرمن مسٹر سٹو ڈر تھا۔اُس نے بھی قرآن کا ترجمہ پڑھا۔ایک دن ہم ڈاکٹر کے ہاں جارہے تھے کہ وہ کہنے لگا حضرت صاحب! میں نے آپ سے کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔میں نے کہا پوچھو۔کہنے لگا میں نے قرآن پڑھا ہے اس میں بڑی اچھی باتیں ہیں۔لیکن آپ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بہت تھوڑی ہے اب آپ مجھے بتائیں کہ اگر