خطبات محمود (جلد 36) — Page 138
$1955 138 خطبات محمود جلد نمبر 36 کہ باقی احمد یوں کو دیکھ کر کہیں میری اولاد کے دل میں بھی بے ایمانی پیدا نہ ہو جائے۔اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ ہم ہی قربانی کے بکرے کیوں بنیں۔جب باقی احمدی اس طرف توجہ نہیں کرتے تو ہم بھی اس کام کو کیوں اختیار کریں۔میں اللہ تعالیٰ سے امید تو نہیں کرتا کہ میری اولاد میں۔خیالات پیدا ہو جائیں مگر ڈر آتا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ میری اولاد کے دل میں بھی کسی وقت خیال آجائے کہ اگر اور کوئی احمدی اپنے آپ کو وقف نہیں کرتا تو ہم بھی کیوں کریں۔آخر اسلام پر ضعف آیا تو اسی وجہ سے کہ مسلمانوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کئی مسلمان ہیں جو نمازیں نہیں پڑھتے ، کئی مسلمان ہیں جو روزے نہیں رکھتے۔مطلب یہ تھا کہ اگر دوسرا ان احکام کو چھوڑ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں چھوڑ سکتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ انہوں نے بھی نماز روزہ کو ترک کر دیا۔پس جب تک جماعت میں وقف کی تحریک مضبوط نہ ہو اُس وقت تک ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ناممکن ہے۔اس کے لیے اول تو جماعت کے ہر فرد کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ میں نے ایک سے دو بننا ہے، دو سے چار بننا ہے، چار سے آٹھ بننا ہے، آٹھ سے سولہ بننا ہے، سولہ سے بہتیں بنتا ہے، بتیس سے چونسٹھ بننا ہے، اور چونسٹھ سے ایک سو اٹھائیس بننا ہے۔ہماری جماعت آخر لاکھوں کی جماعت ہے اگر ہر دس سال کے اندر ایک ایک شخص کے ذریعہ دو چار احمدی بھی پیدا ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگلے دس سال میں پندرہ میں لاکھ ہو جائیں گے۔اُس سے اگلے دس سال میں اتنی لاکھ ہو جائیں گے۔اور اُس سے اگلے دس سال میں ڈیڑھ کروڑ تک ان کی تعداد پہنچ جائے گی۔اگر ایسا ہو جائے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ ڈیڑھ کروڑ دو ارب تک اسلام کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔لیکن اگر یہ نہ ہو اور ہر شخص سمجھ لے کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے چندہ دے دیا ہے تو یورپ اور امریکہ کو اسلام کون سمجھائے گا ؟ اور اگر سمجھانے والا کوئی نہیں ہوگا تو مانے گا کون؟ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن کے دل اس وقت اسلام کی طرف مائل ہیں۔میں نے پچھلے خطبہ میں ہی بیان کیا تھا کہ ایک ڈچ عورت مجھے ملی اور اُس نے بتایا کہ میں نے ایک مصری سے شادی کی ہوئی ہے جس کی پہلے بھی ایک بیوی موجود ہے۔پھر اس نے کہا کہ