خطبات محمود (جلد 36) — Page 122
$1955 122 خطبات محمود جلد نمبر 36 لیکن اس کے علاوہ وہ زائد روپیہ بھی کما لیتا ہے۔اُس کی بیوی نے بتایا کہ وہ قریباً سترہ اٹھارہ سو پاؤنڈ سالانہ کماتا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی دو ہزار کے قریب ماہوار آمد ہے۔مجھے ایک دفعہ لندن میں بڑے بڑے تاجر ملنے کے لیے آئے۔میں نے اُن کے سامنے اُس کا نام لیا تو ایک شخص کی بیوی نے فوراً پہچان لیا اور کہا کہ ہاں میں اُس کو جانتی ہوں۔اُس نے بڑی سی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔اتنی بڑی داڑھی کہ آپ لوگ جو میرے سامنے بیٹھے ہیں آپ میں سے شاید ایک فیصدی کی بھی اُتنی بڑی داڑھی نہیں۔مجھے جب وہ ملا تو کہنے لگا کہ میرے دوست جب مجھے دیکھتے ہیں تو مجھے پاگل کہتے ہیں۔میں نے کہا اگر آپ کی داڑھی نہ ہوتی تو میں آپ کو پاگل سمجھتا۔اُن کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنے والا پاگل ہے اور میرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ داڑھی نہ رکھنے والا پاگل ہے۔جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے وہ داڑھی رکھنے والوں کو پاگل سمجھتے ہیں اور جو داڑھی رکھتے ہیں وہ کی داڑھی نہ رکھنے والوں کو پاگل سمجھتے ہیں۔بہر حال جب تک دنیا میں اختلاف رہے گا لوگوں کے یہ کی فتوے جاری رہیں گے۔مجھے وہاں کے مبلغین نے بتایا ہے کہ اس شخص کی اسلام کی طرف رغبت کی ایک عجیب وجہ ہے جو عام وجوہات کے بالکل الٹ ہے اور اس سے پتا لگتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کے دماغوں میں تغیر پیدا کر رہا ہے۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ اسلام کے رستہ میں سب سے زیادہ روک تعدد ازدواج کی روک سمجھی جاتی تھی۔یورپ کے لوگ اصرار کرتے تھے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا سخت ظلم ہے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ وہ پہلے بعض اور مسلمانوں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ اسلام کا تعدد ازدواج کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ تو بہ تو بہ ! یہ بات تو دشمنوں کی طرف سے سخت بگاڑ کر پیش کی جاتی ہے اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں۔یہ تو خاص خاص مجبوریوں اور شرطوں اور قیدوں کے ساتھ اجازت دی گئی ہے۔وہ کہنے لگا کہ انہوں نے جب مجھے یہ جواب دیا تو میں جھٹ کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا کہ مجھے تو اسلام میں یہی ایک خوبی نظر آئی تھی اور تم کہتے ہو کہ اس کے ساتھ کئی قسم کی شرطیں اور قیدیں ہیں۔میں تو وہاں جانا چاہتا ہوں کہ جہاں مجھے سیدھی طرح بتایا جائے کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ ہمارے پاس آیا اور اُس نے پوچھا کہ اس بارہ میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ ہمارے مبلغین نے بتایا کہ اسلام اس کی اجازت