خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 123

خطبات محمود جلد نمبر 36 123 صلى الله $1955 دیتا ہے۔مگر اس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تم انصاف سے کام لو اور ہر بیوی کا حق ادا کرو۔وہ کہنے لگا یہ بات درست ہے اور میری عقل اسے تسلیم کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یورپ نے اس تعلیم کو چھوڑ کر بہت کچھ کھویا ہے اور ہم نے اپنے اخلاق بگاڑ لئے ہیں اس لئے اب میں آپ کے پاس ہی آیا کروں گا۔چنانچہ وہ مجھے بھی ملا اور اپنے بیوی اور بچوں کو بھی ہمارے گھر لایا۔پھر اُس نے مجھ سے جو باتیں کیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ اُس نے کس طرح اسلامی تعلیم پر گہرا غور کیا ہے۔اُس نے قرآن کریم کا انگریزی دیباچہ نکالا اور کہا کہ آپ نے اس کتاب میں ایک بات ایسی لکھی ہے جس سے میرے دل میں شبہ پیدا ہوا ہے۔اُس نے کہا میرا طریق یہ ہے کہ میں کتاب پڑھتا جاتا ہوں اور جو شبہات میرے دل میں پیدا ہوں اُن کو میں نوٹ کرتا جاتا ہوں۔اس کتاب کے مطالعہ کے دوران میں میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہوا ہے۔میں نے کہا فرمائیے وہ کیا شبہ ہے؟ کہنے لگا اس کتاب میں آپ نے لکھا ہے کہ رسول کریم یہ ایک دفعہ مسجد میں عبادت کے لیے بیٹھے تھے کہ آپ کی ایک بیوی آپ سے ملنے کے لیے آگئیں۔چونکہ واپسی کے وقت رات ہوگئی تھی اس لئے آپ اپنی بیوی کو گھر پہنچانے کے لیے ساتھ چل پڑے۔راستہ میں آپ کو ایک صحابی ملا۔اُسے دیکھ کر آپ کو شبہ پڑا کہ کہیں اُسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور یہ خیال نہ کرے کہ میں کسی اور کو ساتھ لئے جا رہا ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنی بیوی کے منہ پر سے نقاب اٹھا دی اور اُسے کہا کہ دیکھ لو یہ میری بیوی ہے 2۔جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو مجھے سخت اعتراض پیدا ہوا اور میں نے کہا کہ پردہ تو اسلام کے نہایت اعلیٰ درجہ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے اور یہ مذہب اور پاکیزگی کی جان ہے۔اگر کوئی بد بخت شخص ایسا تھا جس کے دل میں رسول کریم ﷺ کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو دیکھ کر بھی شبہ پیدا ہوا تو وہ بے شک جہنم میں جاتا، اُس کی کیا حیثیت تھی کہ محض اُس کا ایمان بچانے کے لیے اپنی ایک بیوی کے منہ پر سے پردہ اٹھا دیا جاتا۔جس شخص نے اتنی مدت دراز تک رسول کریم می کی خدمات کو دیکھا ، آپ کی قربانیوں کو دیکھا، آپ کے ایمان کو دیکھا، آپ کے اخلاص کو دیکھا، آپ کی محبت الہی کو دیکھا اور پھر بھی اُس کے دل میں شبہ پیدا ہوا، وہ کمبخت اگر مرتا تھا تو بے شک ا مرتا۔اُس کے لیے کیا ضرورت تھی کہ اپنی کسی بیوی کے منہ پر سے نقاب اٹھا دیا جاتا۔صلى الله