خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 121

$1955 121 خطبات محمود جلد نمبر 36 معائنہ میں بتایا ہے کہ پہلے سے نظر ٹھیک ہو رہی ہے لیکن پھر بھی دیر تک میں ایک جگہ پر نظر نہیں ڈال سکتا۔اس سے دماغ میں پریشانی پیدا ہو جاتی اور مجھے کوفت محسوس ہونے لگتی ہے۔بہر حال ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ آنکھوں کے کچھ عرصہ استعمال کے بعد یہ نقائص کم ہونے لگیں گے۔اسی طرح گلے اور کان کا معائنہ کرایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ جہاں تک طبی معائنہ کا تعلق ہے کان اور گلے میں کسی قسم کا نقص نہیں۔یہ صرف فنکشنل (Functional) تکلیف ہے۔یعنی ان اعضاء کے طریق کار کو بیماری کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے اس لئے اب نئے سرے سے آپ کو ہر چیز کی عادت ڈالنی پڑے گی۔آج میں سب سے پہلے اپنے اُن تجارب سے جو مجھے یورپ کے سفر میں ہوئے ہیں ایک بات کا خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غالباً 1904ء یا1905ء میں کہا تھا کہ آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج 1 یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کے کسی انسان کے واہمہ اور خیال میں بھی تبلیغ اسلام نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اُس وقت کچھ اشتہار لکھ کر بھیجے اور بعض نے وہ اشتہار پڑھے بھی۔لیکن اس سے زیادہ اُس وقت کوئی تبلیغ نہیں تھی۔بعد میں ہمارے مشن بیرونی ممالک میں قائم ہوئے اور کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔مگر یہ بات بھی ایسی ہی تھی جیسے پہاڑ کھود نے کے لیے ہتھوڑا مارا جاتا ہے۔ہتھوڑا مارنے سے دو تین انچ پہاڑ تو گھر سکتا ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہاڑ کھودا گیا ہے۔بے شک ہم اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ پہاڑ کھودنے کا کام شروع ہو گیا ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کھودا بھی گیا ہے۔لیکن اس سفر میں میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب نشان دیکھا کہ یورپ کے بعض اچھے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں وہی باتیں جو پہلے اسلام کے خلاف سمجھی جاتی تھیں اب اس کی صداقت کا ثبوت سمجھی جانے لگی ہیں۔چنانچہ میرے لندن پہنچنے سے چند دن پہلے ہی وہاں کا ایک مشہور میوزیشن (Musician) جولندن کے ایک اہم ترین او پیرا (OPERA) میں کام کرتا اور پیانو وغیرہ بجاتا ہے اُس کے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہوئی۔اُس کی ماہوار تنخواہ 105 پاؤنڈ ہے۔گویا آجکل کے ریٹ کے لحاظ سے قریباً چودہ سو روپیہ