خطبات محمود (جلد 35) — Page 42
$1954 42 خطبات محمود اولاد نہیں ہوتی یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! تو مجھے بھی بچہ دے دے اور پھر اُس کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اُسے خدا تعالیٰ کی صفت خلق پر جو یقین پیدا ہوتا ہے اور کسی شخص کو نہیں ہوتا۔اور پھر اسے صرف خدا تعالیٰ کی صفت خلق پر ہی یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ اُسے اُس کی صفتِ سمیع پر بھی یقین پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ سمیع نہ ہوتا تو اُس کی دعا سنتا کیسے؟ پھر اُس کو خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت پر بھی یقین ہو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ رحمان نہ ہوتا تو اس شخص کی دعا سن لینے کے بعد دعا قبول کر لینے کا احساس اسے کیسے پیدا ہوتا؟ اور وہ خالقیت کی صفت کو ظاہر کیسے کرتا؟ ہم نے اس کا بارہا تجربہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت کے کئی نظارے دیکھے ہیں۔اس کی درجنوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں ہوں گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا یا میری دعا کے نتیجہ میں ایسے گھروں میں بچے پیدا ہوئے جن میں بظاہر اولاد پیدا ہونا ناممکن تھا۔بعض لوگوں کی شادیوں پر نہیں ہیں سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا تھا اور پھر بھی میری دعا سے ان کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔مثلاً قادیان میں ہی ایک ہندو تھا۔وہ بہت مالدار تھا۔قادیان اور بٹالہ کے درمیان اس کے یکے چلتے تھے۔اس کے علاوہ وہ ٹھیکیدار بھی تھا اور تجارت بھی کرتا تھا۔اس نے دو شادیاں کیں لیکن اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی۔اس نے مجھے دعا کی تحریک کی اور یہ نذر مانی کہ اگر خدا تعالیٰ نے اُسے بچہ دے دیا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے کھانے کے لیے کچھ نذرانہ دے گا۔ایک سال یا دو سال کے بعد جب اُس کی شادی پر ہیں سال یا اس سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا اُس کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی شخص نے مجھے بتایا کہ نیچے فلاں ہندو آیا ہوا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نیچے آگیا۔میں نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ میں ایک بکری تھی۔اسی طرح ایک بوری آٹا اور کچھ گھی کی بھی تھا۔اُس نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی دعا سے ایک بچہ دیا ہے۔بچہ اور اُس کی ماں کو سلام کرانے کے لیے میں یہاں لایا ہوں اور یہ چیزیں لنگر خانہ کے لیے ہیں۔آپ انہیں قبول فرمائیں۔اُس شخص کے ہاں ہیں سال سے اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔اس نے مجھے دعا کی تحریک کی اور میری دعا کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اسے بیٹا عطا کیا۔