خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 43

خطبات محمود 43 $1954 ابھی اس جلسہ پر ایک عجیب نظارہ پیش آیا کہ ایک عورت لائل پور کی رہنے والی تھی اور لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری تھی۔وہ جب بھی ربوہ آتی مجھ سے کہتی میرے ہاں اتنے عرصہ سے اولاد نہیں ہوئی۔آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اولاد دے دے۔دوسال ہوئے میں نے اُسے کہا تیری کب شادی ہوئی تھی؟ اس نے کہا میں یا اکیس سال ہو گئے ہیں کہ میری شادی ہوئی تھی اور ابھی تک میرے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔میں نے اسے کہا تو اب بوڑھی ہو چکی اب اولاد کا خیال جانے دو۔پینتالیس یا پچاس سال کی تمہاری عمر ہو چکی ہے اور بیس سال گزر چکے ہیں۔اب بھی کہتی ہو دعا کرو دعا کرو۔آخر یہ سلسلہ کب تک چلا جائے گا؟ شادی پر اس عورت نے کہا میں نے تو دعا کے لیے کہتے چلے جانا ہے۔وہ عورت اچھی خاصی عمر کی تھی پینتالیس اور پچاس سال کے درمیان اس کی عمر تھی اور میں بائیس سال شادی پر گزر چکے تھے۔ایک دن اسی جلسہ کے دنوں میں اُس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے دروازہ کھولا تو اُس نے مجھے اپنی بچی دکھائی اور کہا آپ تو کہتے تھے کہ تمہاری شادی پر اتنا عرصہ گزر چکا ہے اور عمر بھی زیادہ ہو چکی ہے، اب دعا کے لیے کیوں کہتی ہو؟ اولاد کا خیال اب جانے دو۔لیکن میں نے آپ کا پیچھا کیا اور دعا کی درخواست کرتی رہی اور اب اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کے نتیجہ میں یہ بچی عطا فرمائی ہے۔ایسے موقعوں پر انسان کا یقین خدا تعالی کی کئی صفات پر ہو جاتا ہے۔اس کا یقین صرف خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت پر ہی نہیں بڑھتا بلکہ اس کی صفتِ سمیع اور رحیمیت پر بھی اس کا یقین ہو جاتا ہے۔کیونکہ اگر وہ سمیع اور رحیم نہ ہوتا تو وہ اس کی دعاؤں کو کیسے سنتا اور پھر دعاؤں کو سن کر اسے یہ احساس کیسے ہوتا کہ وہ بچہ دے دے۔پھر یہ دعا ئیں بعض اوقات تو ایسے طور پر پوری ہو جاتی ہیں کہ ان کے نتیجہ میں تقدیر مبرم بھی بدل جاتی ہے اور تقدیر مبرم کے بدلنے کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اس کی شکل بدل جاتی ہے۔وہ پوری بھی ہو جاتی ہے اور انسان ان خطرات سے بھی بچ جاتا ہے جو اسے لاحق ہونے والے ہوتے ہیں۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کا کی ایک مُرید تھا جس سے انہیں بہت پیار تھا۔اسے ایک عیسائی عورت سے محبت پیدا ہو گئی اور اس کی محبت بڑھتی چلی گئی۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی دعا کرتے تھے کہ وہ کسی طرح