خطبات محمود (جلد 35) — Page 41
خطبات محمود 41 $1954 ނ یا وہ کسی دُکھ میں پکڑا جاتا ہے اور اُس پر رزق کی تنگی وارد ہو جاتی ہے اور وہ پھر خدا تعالیٰ۔دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! تو میرے لیے رزق کی تنگی کو دور کر دے اور پھر وہ رزق کی تنگی دور ہو تی دعا جاتی ہے۔تو رازق تو خدا تعالیٰ پہلے بھی تھا اور رازق وہ اُس وقت بھی تھا جب وہ تی مانگ رہا تھا لیکن جب اس شخص کے لیے خدا تعالیٰ کی صفت رزاقیت ظاہر ہوتی ہے تو اُس کا ایمان پہلے کی نسبت بہت بڑھ جاتا ہے۔پھر ایک زائد یقین اُسے یہ حاصل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سننے والا بھی ہے کیونکہ اگر وہ سننے والا نہ ہوتا تو اُس کی دعا اُس تک پہنچتی کیسے؟ پھر اسے یہ یقین بھی حاصل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے کیونکہ اگر بندوں پر مہربان نہ ہوتا تو اس کی دعا سن کر اس کے اندر یہ احساس کیوں پیدا ہوتا کہ میں وہ تکلیف دور کر دوں۔پس اس ایک دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تین صفات انسان پر ظاہر ہوتی ہیں۔اس کی صفت رزاقیت بھی ظاہر ہوتی ہے، اس کی صفت سمیع بھی ظاہر ہوتی ہے، اس کی صفت رحمانیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔یا مثلاً خدا تعالیٰ دنیا میں ہمیشہ لوگوں کے ہاں بچے پیدا کرتا ہے۔وہ پہلے بھی بچے پیدا کرتا رہا ہے اور اب بھی پیدا کر رہا ہے اور انسانی نسل برابر ترقی کر رہی ہے۔یہاں تک کہ اب لوگوں کو یہ وہم ہو رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ دنیا میں پیدا ہونے والا غلہ غذا کے لیے کافی نہیں ہو گا۔اور بعض بیوقوفوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ نسلِ انسانی کو محدود رکھنا چاہیے اور پیدائش کو روکنا چاہیے تا انسانوں کی تعداد اس حد تک بڑھ جائے کہ کسی وقت غذا کی قلت محسوس ہونے لگ جائے۔لیکن باوجود اس کثرت نسل کے ور باوجود انسانوں کی اس قدر زیادتی کے کئی گھرانے ایسے ہوتے ہیں جن کے ہاں بچے پیدا نہیں ہوتے اور وہ اولاد کو ترستے رہتے ہیں۔ایک شخص کروڑ پتی ہوتا ہے لیکن اُسے ایسا بچہ میسر نہیں آتا جو اُس کے بعد اُس کی دولت کا وارث ہو لیکن دوسری طرف ایک فاقہ کش مزدور ہوتا ہی ہے اُس کے دس گیارہ بچے ہوتے ہیں اور اُن کا پیٹ پالنے کے لیے بھی اسے روٹی میسر نہیں کی ہوتی۔پس جہاں تک دنیا کا سوال ہے خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اگر بعض افراد پر ان کے مخصوص حالات کے لحاظ سے ہم نظر ڈالیں تو اس کی خالقیت نظر نہیں آتی کیونکہ وہ اولاد سے محروم ہوتے ہیں۔اگر ایسا شخص جس کے ہاں کی